اسلام آباد( کامرس ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے سالانہ ٹیکس وصولی کے ہدف میں 64 ارب روپے کی کمی کر دی ہے۔ آئی ایم ایف نے سالانہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 1297 ارب روپے سے کم کر کے 1233 ارب روپے کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، ایف بی آر نے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ 1233 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کرے گا، تاہم یہ کمی آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ایف بی آر کے لیے ٹیکس وصولی میں مشکلات کا سامنا ہے، جیسا کہ مارچ میں ٹیکس وصولی کا ہدف 1220 ارب روپے تھا لیکن ایف بی آر صرف 1113 ارب روپے جمع کرنے میں کامیاب ہو سکا، جس سے 107 ارب روپے کی کمی ہوئی۔رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ میں ایف بی آر کو 708 ارب روپے کا مجموعی خسارہ ہو چکا ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان کو ٹیکس وصولی کے ہدف کو پورا کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔یہ صورتحال پاکستان کی مالیاتی پوزیشن پر دبا ڈال سکتی ہے اور آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں مالیاتی امداد کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کا پاکستان کے ٹیکس وصولی کے ہدف میں کمی کا فیصلہ
9