اسلام آباد( کامرس ڈیسک)رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کا مجموعی قرضہ 74 ہزار ارب روپے سے بڑھ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی سے دسمبر 2024 تک مقامی قرضہ 49 ہزار 883 ارب روپے تک پہنچا جبکہ بیرونی قرضہ 24 ہزار 130 ارب روپے رہا۔پہلی ششماہی میں حکومتی قرضے میں 67 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس میں مقامی قرضوں میں 5 فیصد اضافہ شامل ہے۔ اس دوران مقامی قرضہ جی ڈی پی کے 67 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ بیرونی قرضہ جی ڈی پی کا 33 فیصد رہا ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق سود کی ادائیگیوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا، جس کے باعث پہلی ششماہی میں 5.1 ٹریلین روپے سود کی ادائیگیوں پر خرچ ہوئے۔ گزشتہ برس اس عرصے میں یہ رقم 4.2 ٹریلین روپے تھی۔رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں پرائمری سرپلس 2.8 ٹریلین روپے تک پہنچا، جو کہ گزشتہ سال کے 1.5 ٹریلین روپے کے مقابلے میں بہتر رہا۔ غیر ملکی قرضہ 86 ارب 62 کروڑ ڈالرز تک پہنچ چکا ہے، جس میں حکومتی غیر ملکی قرضہ 78 ارب 12 کروڑ ڈالرز سے زائد ہے۔پہلی ششماہی میں ملکی قرضے میں 3.9 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال کی نسبت کم ہے، جب کہ پرائمری بیلنس بیس سال بعد 0.9 فیصد رہا۔
پاکستان کا مجموعی قرضہ 74 ہزار ارب روپے تک جا پہنچا، سود کی ادائیگیوں میں بھی18 فیصد اضافہ
7