لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ میں ایک چوتھائی باشندوں نے حکومت سے مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے خود کو معذور ظاہر کرنا شروع کر دیا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دہائی میں اس تعداد میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور اب یہ 17 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے تقریبا نصف افراد جو کام کرنے کی عمر کے ہیں، کہتے ہیں کہ انہیں دماغی مسائل لاحق ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 2023-24 کے دوران 16.8 ملین افراد نے دماغی یا جسمانی بیماری کا دعوی کیا۔ 2013-14 میں اس تعداد میں 4.9 ملین کا اضافہ ہوا۔ ذہنی صحت سے متعلق معذوری کے دعووں میں وبائی مرض سے قبل 20 لاکھ افراد کی تعداد بڑھ کر 3.8 ملین ہوئی، اور اب یہ 5.8 ملین تک پہنچ چکی ہے۔کام کرنے کی عمر کے تقریبا 48 فیصد افراد نے کہا کہ وہ ذہنی مسائل کا شکار ہیں، جو کہ سب سے عام معذوری کی شکل بن گئی ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں لیبر بیک بینچرز نے دھمکی دی ہے کہ وہ معذوری کے فوائد حاصل کرنے کے لیے وزرا کے منصوبوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔انگلینڈ کے مقابلے میں سکاٹ لینڈ اور ویلز میں معذوری کی شرح زیادہ ہے۔ ویلز میں معذوری کی سب سے زیادہ شرح 30 فیصد تھی، اسکاٹ لینڈ 28 فیصد، شمالی آئرلینڈ 25 فیصد، اور انگلینڈ میں یہ شرح 24 فیصد تھی۔ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ مردوں کے مقابلے میں زیادہ معذور ہیں۔
ایک چوتھائی برطانوی باشندوں نے معذوری کے فوائد کے لیے خود کو معذور ظاہر کرنا شروع کردیا
12
پچھلی پوسٹ