نیو یارک ( ہیلتھ ڈیسک)خون کے دبا یا بلڈ پریشر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شریانوں میں خون کی مقدار کتنی تیزی سے گزر رہی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر اس وقت ہوتا ہے جب یہ دبا مسلسل زیادہ ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی شریانیں تنگ اور کمزور ہو جاتی ہیں۔ اسے “خاموش قاتل” مرض کہا جاتا ہے کیونکہ اکثر افراد کو اس کا علم نہیں ہوتا۔ ہائی بلڈ پریشر وقت کے ساتھ مختلف سنگین امراض جیسے دل کے امراض، ہارٹ اٹیک، اور فالج کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان اور دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ حالیہ تحقیق نے ہائی بلڈ پریشر کے بڑھتے ہوئے خطرات میں ایک اور عنصر شامل کیا ہے، اور وہ ہے نیند کی کمی۔ امریکہ کی Pennsylvania اسٹیٹ یونیورسٹی کالج آف میڈیسن کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو نوجوان کم وقت تک سوتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔تحقیق میں 400 سے زائد نوجوانوں کو شامل کیا گیا، جنہیں نیند کے دورانیے اور بلڈ پریشر کے حوالے سے سوالات کیے گئے۔ نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ جو نوجوان ہر رات 7.7 گھنٹے سے کم سوتے ہیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 8 سے 10 گھنٹے سونے والوں کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہوتا ہے۔یہ تحقیق بتاتی ہے کہ نیند کی کمی اور بے خوابی کا امتزاج ہائی بلڈ پریشر کی شدت میں اضافے کا باعث بنتا ہے، جو کہ صحت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہو سکتا ہے۔
نیند کی کمی ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بڑھاتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف
12