واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے فلسطین کی حمایت کرنے والے 300 سے زائد غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کرنے کی خبر دی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ محکمہ خارجہ نے ان طلبا کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں جو فلسطینیوں کی حمایت میں سرگرم تھے۔ روبیو نے دھمکی دی کہ ٹرمپ انتظامیہ ان “جنونیوں” کا تعاقب کر رہی ہے، اور امریکی مختلف علاقوں میں امیگریشن حکام نے متعدد اسکالرز کو حراست میں لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم ہر روز یہ کارروائیاں کر رہے ہیں، اور ایسے جنونیوں کا ویزا جہاں بھی ملے گا منسوخ کیا جائے گا۔”اس سے قبل، امریکی ریاست میسا چوسٹس میں بوسٹن کے قریب ٹفٹ یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ رومیسہ اوزترک کو فلسطینیوں کی حمایت کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ترکی سے تعلق رکھنے والی طالبہ کا ویزا بھی منسوخ کر دیا گیا تھا، اور اسے امریکی امیگریشن حکام نے ان کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا۔غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر متعدد غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔ ماہرین اور وکلا کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں اور ویزا منسوخیاں آزادی اظہار کی خلاف ورزی ہیں۔
امریکا نے فلسطین کی حمایت کرنے والے 300 غیر ملکی طلبا کے ویزے منسوخ کر دیے
5