کراچی ( ہیلتھ ڈیسک)موجودہ عہد میں جوان افراد میں فالج جیسے جان لیوا مرض کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور اب ایک نئی تحقیق میں اس کی اہم ممکنہ وجہ دریافت کی گئی ہے۔ فالج دنیا بھر میں اموات کی ایک بڑی وجہ ہے اور اس کا فوری علاج نہ ہونے کی صورت میں موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہذا اس کے خطرات اور علامات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔فالج کی دو اقسام ہیں: ایک برین ہیمرج، جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے، اور دوسری قسم میں دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں آکسیجن کی کمی ہوتی ہے اور دماغ کو نقصان پہنچتا ہے۔جرنل نیورولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دائمی تنا فالج کا خطرہ بڑھانے والا ایک عام عنصر ہے۔ روزمرہ کی زندگی میں تنا کا سامنا اکثر افراد کو ہوتا ہے، مگر جب یہ تنا دائمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ متعدد طبی مسائل جیسے ہائی بلڈ پریشر، سر درد اور فالج جیسے امراض کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ دائمی تنا نہ صرف فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے، بلکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں اس سے فالج کا خطرہ زیادہ بڑھتا ہے۔ تحقیق میں 426 مریضوں کا ڈیٹا شامل کیا گیا تھا، جو دماغ کو خون پہنچانے والی شریان بلاک ہونے کے باعث فالج کا شکار ہوئے تھے، مگر اس کی وجہ معلوم نہیں تھی۔ ان مریضوں کا موازنہ ان کی عمر کے 426 صحت مند افراد سے کیا گیا۔
جوان افراد میں فالج کا خطرہ: دائمی تنا کی اہم وجہ، تحقیق میں انکشاف
7