پشاور( اباسین خبر)خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں متحرک قبائل کے درمیان اسلحہ حوالگی کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ اپرکرم کے قبائل اسلحہ حکومت کی بجائے قبائلی عمائدین کے حوالے کرنے کی تجویز دے رہے ہیں، جبکہ لوئرکرم کے قبائل کا موقف ہے کہ اسلحہ سکیورٹی فورسز کے حوالے کیا جائے۔ دونوں طرف سے مختلف تجاویز کو اعلی حکومتی افسران کے سامنے پیش کیا جائے گا۔لوئر کرم کے قبائل نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بگن بازار کی تعمیر نو کے ساتھ معاوضے کی ادائیگی شروع کی جائے، اور ٹل پاراچنار روڈ پر فائرنگ کا الزام تیسری پارٹی پر عائد کیا ہے، نہ کہ لوئر کرم کے قبائل پر۔انتظامیہ نے مرکزی شاہراہ کو کھولنے کے لیے 4 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی پر غور شروع کر دیا ہے، اور لوئر اور سینٹرل کرم کے بعد اب اپرکرم میں بھی بنکروں کی مسماری کا عمل جاری ہے۔ اب تک 48 بنکرز مسمار کیے جا چکے ہیں۔ متوقع ہے کہ اتوار یا پیر کو تجاویز مرتب کرکے دوبارہ جرگہ طلب کیا جائے گا۔
کرم میں متحرک قبائل کے درمیان اسلحہ حوالگی پر تاحال ڈیڈلاک برقرار
32