لاہور( اباسین خبر)لاہور ہائی کورٹ نے ٹریفک کی خلاف ورزی میں ملوث سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔سموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ جسٹس شاہد کریم نے ہارون فاروق اور دیگر کی درخواستوں پر چار صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا۔تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ سی ٹی او لاہور نے ٹریفک کے نظام کی بہتری کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کی ہے، جس میں تجویز دی گئی ہے کہ ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکی جائیں۔عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا کہ ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سرکاری سہولتیں نہ دی جائیں اور چالان کی ادائیگی نہ کرنے والوں کی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی تجدید نہ کی جائے۔عدالت نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے ممبران ان تجاویز کو مناسب حکم کے لیے عدالت کے سامنے پیش کریں۔ لاہور میں لوڈر اور چنگ چی رکشوں پر پابندی کے حوالے سے پنجاب حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ آئندہ سماعت پر جواب جمع کرائیں۔سی ٹی او نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کو بہت سی سمریز بھجوائی جا چکی ہیں، جنہیں مناسب ہدایت کے لیے جوڈیشل کمیشن کو فراہم کیا جائے گا۔ عدالت نے سی ٹی او کی رپورٹ کو قابل تعریف قرار دیا۔سرکاری وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے محکمہ جنگلات کی اراضی روڈا سے واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ یہ فیصلہ انتہائی قابل تعریف ہے۔تحریری حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ واسا ری سائیکلنگ پلانٹ کے بغیر سروس سٹیشن بنانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی۔
ٹریفک کی خلاف ورزی میں ملوث سرکاری ملازمین کی تنخواہیں روکنے کی تجویز
3