واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایک خلائی پتھر “ایسٹرائیڈ 2024 YR4″، جو 500 نیوکلیئر بموں کی طاقت رکھتا ہے، تیزی سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ناسا کی رپورٹ کے مطابق یہ خلائی پتھر دسمبر 2032 میں زمین کے بہت قریب سے گزر سکتا ہے یا زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔یہ خلائی پتھر تقریبا 100 میٹر چوڑا ہے اور اس کی رفتار 61 ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ سے زائد ہے۔ اس کی رفتار اور سائز کے پیش نظر، اگر یہ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس کے اثرات انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق، ایسٹرائیڈ کے ٹکرانے سے 8 ملین ٹن توانائی پیدا ہو گی، جو ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے جوہری بموں سے 500 گنا زیادہ ہے۔اگر یہ ایسٹرائیڈ زمین سے ٹکراتا ہے تو اس دھماکے کا اثر زمین کے 50 کلو میٹر کے حصے تک پہنچے گا، جس سے وہاں کی تمام چیزیں تباہ ہو جائیں گی۔ تاہم، ناسا کا کہنا ہے کہ ایسٹرائیڈ کے زمین سے ٹکرانے کے امکانات کم ہیں، مگر اس کے قریب آنے کی رفتار اور سائز کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔یہ رپورٹ عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہے، اور اس خلائی پتھر کی نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
500 نیوکلیئر بموں کی طاقت والا خلائی پتھر زمین کی طرف بڑھنے لگا
2
پچھلی پوسٹ