امریکا نے برطانوی فوجی اڈے سے تمام بمبار طیارے واپس بلا لیے
لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا نے برطانیہ کے آر اے ایف فیئر فورڈ فوجی اڈے پر موجود اپنے تمام بمبار طیارے واپس امریکا میں قائم مستقل اڈوں پر منتقل کردیے ہیں۔امریکی حکام نے طیاروں کی واپسی کی کوئی وجہ بیان نہیں کی، تاہم یہ فیصلہ 27 ستمبر کو اڈے کے قریب تین مشکوک گاڑیوں کی اطلاع کے بعد پیش آنے والے واقعے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ واقعے کے سلسلے میں پانچ افراد کو پہلے دہشت گردی سے متعلق الزامات کے شبہے میں گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں انہیں پولیس ضمانت پر رہا کردیا گیا۔ بعد ازاں ایک برطانوی، ایرانی شہری کو بھی گرفتار کرکے ضمانت پر چھوڑ دیا گیا۔وائٹ ہاؤس ذرائع نے اس تاثر کی تردید نہیں کی کہ بمبار طیاروں کی واپسی کا فیصلہ فیئر فورڈ کے واقعے کے ردعمل میں کیا گیا۔ تاہم برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا گیا کہ یہ اقدام سیاسی کے بجائے فوجی نوعیت کا تھا، جس کا فیصلہ امریکی فوج نے عملیاتی سطح پر کیا اور برطانوی حکام کو اس سے آگاہ کردیا۔برطانوی وزارت دفاع نے معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ برطانوی وزیر اعظم اینڈی برنہم نے واقعے کے چند روز بعد کہا تھا کہ اس میں ایران کے ملوث ہونے کے واضح اشارے موجود ہیں، تاہم تہران نے اس الزام کو سختی سے مسترد کردیا۔آر اے ایف فیئر فورڈ کئی دہائیوں سے امریکی فضائیہ کے پیشگی آپریشنل اڈے کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں امریکی بمبار طیاروں نے اسی اڈے سے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں کی تھیں، جب برطانیہ نے ایران کے خلاف دفاعی کارروائیوں کے لیے اڈے کے استعمال کی امریکی درخواست منظور کی تھی۔ایرانی حکام نے جولائی میں خبردار کیا تھا کہ ایرانی سرزمین کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ ایرانی افواج کے لیے جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واقعے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس میں کسی غیر ملکی فریق کے ملوث ہونے کے واضح شواہد موجود ہیں۔