ٹرمپ کا ایران پر جلد دوبارہ حملے کا اشارہ، مزید کارروائی کا عندیہ
واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر جلد دوبارہ حملہ کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور مزید فوجی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے ایران کو بری طرح نشانہ بنایا ہے، تاہم ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید کارروائی کی جائے۔امریکی وسط مدتی انتخابات کے دوران جنگ کے ووٹرز پر ممکنہ اثرات سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ ایک لحاظ سے انہیں یہ بات پسند ہے، کیونکہ وہ وہ اقدامات کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں سابق صدور کو بھی کرنے چاہییں تھے۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض ووٹرز اس صورتِ حال کو پسند نہیں کریں گے اور اس کی ایک قیمت بھی چکانا پڑتی ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کے خلاف یہ قدم اٹھاتے وقت اس کے ممکنہ نتائج کا اندازہ تھا، لیکن امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس سے قبل امریکی صدر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت نہیں ہورہی اور تنازع کے حوالے سے جلد کوئی پیش رفت سامنے آسکتی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ امریکا فوجی اور مالی اعتبار سے ایران کے خلاف بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے۔تیل کی قیمتوں میں اضافے کا ایران پر الزامصدر ٹرمپ نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت گزرنے والے تیل کی مقدار فروری میں تنازع شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے ایران پر حملوں اور بارودی سرنگوں سے متعلق واقعات کے بارے میں جھوٹے دعوے کرنے کا الزام لگایا۔امریکا اور اسرائیل کے ممکنہ نئے حملوں کی اطلاعاتدوسری جانب ایک امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ دونوں ممالک کی افواج ممکنہ کارروائیوں کی مشقیں بھی تیز کرچکی ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہوسکتے ہیں۔تاہم، رپورٹ میں بیان کردہ منصوبے اور ممکنہ اہداف سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔