ٓ آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکروں پر حملوں کا ایرانی دعویٰ، امریکا کو دھمکی

ٓ آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکروں پر حملوں کا ایرانی دعویٰ، امریکا کو دھمکی

Oct 23, 2026|ویب ڈیسک

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں سے بعض کو نقصان پہنچنے کے بعد آگ لگ گئی، جبکہ دیگر جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ناکارہ ہوگئے۔ دوسری جانب امریکا نے ایرانی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تہران امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔الجزیرہ، اے ایف پی اور ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ نشانہ بننے والے سات جہازوں میں سے چار تیل کی منتقلی میں مصروف تھے۔ ان جہازوں پر رات کے وقت حملے کیے گئے، جس کے بعد ان میں آگ بھڑک اٹھی، جبکہ باقی تین جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے باعث ناکارہ ہوگئے۔تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ دستیاب رپورٹ میں ممکنہ جانی نقصان یا متاثرہ جہازوں کی ملکیت سے متعلق بھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیپاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز کے دیگر حصوں میں جہازوں کی آمدورفت میں مدد جاری رکھتا ہے تو ایران مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ایرانی ادارے کے مطابق موجودہ صورت حال برقرار رہنے کی صورت میں تنازع خطے میں موجود امریکی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس بیان کو واشنگٹن کے لیے سنجیدہ انتباہ قرار دیا ہے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی۔ ایران اس آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول ظاہر کرتا رہا ہے، جبکہ اس کی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے جہازوں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ٹرمپ نے ایرانی دعوؤں کو من گھڑت قرار دے دیاامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو الزام عائد کیا کہ ایران امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں انہوں نے ایرانی حملوں، بارودی سرنگوں اور جہازوں کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق دعوؤں کو من گھڑت قرار دیا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان نے بھی الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے بارودی سرنگوں سے متعلق دعوؤں کو غلط قرار دیا۔ ترجمان کے مطابق امریکی افواج بین الاقوامی بحری راستوں سے بارودی سرنگیں صاف کرچکی ہیں، جبکہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے۔امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور تقریباً 95 فیصد جہاز اس سے گزرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حملوں کو ایران پر امریکی ناکہ بندی کے دباؤ سے بھی جوڑا۔جنگ میں مزید شدت آنے کا خدشہالجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تہران میں جنگ کے مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ایرانی فوجی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ملک پہلے سے زیادہ تیار ہے اور اس کے پاس امریکا کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے کافی ہتھیار اور سازوسامان موجود ہے۔دوسری جانب واشنگٹن سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کی صحافی کمبرلی ہالکٹ نے کہا کہ جنگ کے اخراجات، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور عوامی دباؤ کے باعث امریکی حکومت کو ایران کے خلاف ممکنہ مزید فوجی کارروائی کے حق میں دلائل دینا پڑ رہے ہیں۔ان کے مطابق جنگ کے اخراجات پر تشویش صرف حزب اختلاف تک محدود نہیں، بلکہ حکمراں ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی دباؤ موجود ہے۔آبنائے ہرمز میں جہازوں کی سلامتی اور امریکا و ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل اور توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔