پی ٹی آئی کی مذاکراتی سیاست میں علی امین گنڈاپور کی واپسی کا فیصلہ

پی ٹی آئی کی مذاکراتی سیاست میں علی امین گنڈاپور کی واپسی کا فیصلہ

Oct 23, 2026|ویب ڈیسک

پشاور( اباسین خبر) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کا نمائندہ نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس سے پارٹی کی پارلیمانی سیاست میں ان کا کردار دوبارہ نمایاں ہونے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق اکثریتی اراکین کی رائے سے علی امین گنڈاپور کو مرکزی مذاکراتی عمل میں صوبے کی نمائندگی سونپنے کا فیصلہ کیا گیا۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جبکہ جنید اکبر پارٹی کے صوبائی صدر ہیں۔ گزشتہ اجلاس میں ان دونوں عہدوں پر تبدیلی سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔پارلیمانی پارٹی نے مرکزی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے بیان اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ان کی پوسٹ پر تشویش کا اظہار کیا اور چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان سے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں سلمان اکرم راجہ سے اپنا بیان واپس لینے اور معذرت کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔گورنر راج اور گرفتاریوں پر تشویشپارلیمانی پارٹی نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام کا اقدام قرار دیا۔اعلامیے میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی اور دیگر پارٹی رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریوں اور مبینہ اغوا کے واقعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔پارلیمانی پارٹی نے عالمی برادری سے زیر حراست افراد اور مبینہ طور پر اغوا کیے گئے رہنماؤں کی بازیابی کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی، جبکہ عدالتوں سے مطالبہ کیا کہ فوری قانونی کارروائی کے ذریعے ان کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔اعلامیے میں پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین، ان کی اہلیہ اور دیگر گرفتار پارٹی رہنماؤں کی رہائی کے لیے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر احتجاجی لائحہ عمل مرتب کرنے پر بھی زور دیا گیا۔نئے انتظامی ڈھانچے کی مخالفتپی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے قبائلی اور بعض بندوبستی اضلاع میں قائم کیے جانے والے نئے انتظامی ڈھانچے کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اعلامیے میں ایریا ریپریزنٹیٹو ڈویلپمنٹ کونسلز کے ذریعے غیر منتخب نمائندوں کو مسلط کرنے کی کوشش کی بھی مخالفت کی گئی۔پارلیمانی پارٹی نے نئے انتظامی نظام کے خلاف دیگر سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقین کو ساتھ ملا کر تحریک چلانے پر اتفاق کیا۔اعلامیے کے مطابق پارٹی نے صوبے کے آئینی و جمہوری حقوق، منتخب قیادت کی بازیابی اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے سیاسی، قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔