تھنک ٹینک کا افغانستان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار
کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) ایک تحقیقی ادارے نے طالبان کے اقتدار میں افغانستان کی انسانی، معاشی اور سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو متعدد سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق مارچ 2026 میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو غیر قانونی حراستوں کی سرپرستی کرنے والا ملک قرار دیا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دسمبر 2025 میں آسٹریلیا نے طالبان حکومت کے تین وزرا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر سفری اور مالی پابندیاں عائد کیں۔تحقیقی ادارے کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہوا ہے۔ رپورٹ میں خواتین کی تعلیم پر عائد پابندیوں، سابق حکومت سے وابستہ افراد اور اقلیتی برادریوں کو درپیش خطرات، مالیاتی نظام میں شفافیت کے فقدان اور سرکاری وسائل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان اور دیگر مسلح گروہوں کی موجودگی خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہے۔افغان امور کے سابق امریکی سفارت کار اور ماہر ینی فورزہائمر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق، بالخصوص خواتین، اقلیتوں اور میڈیا سے متعلق صورتحال تشویشناک ہے، جبکہ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی بھی عالمی برادری کے لیے باعث تشویش ہے۔رپورٹ میں افغانستان کی موجودہ صورتحال پر عالمی توجہ اور انسانی بحران کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔