ثاقب چدھڑ کے مومنہ اقبال اور بہن پر سنگین الزامات
لاہور( شوبز ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان کئی ماہ سے جاری قانونی تنازع میں مزید پیشرفت سامنے آگئی۔ثاقب چدھڑ نے اپنے پہلے تفصیلی انٹرویو میں مومنہ اقبال اور ان کی بہن رمشا اقبال سے متعلق متعدد دعوے اور الزامات عائد کیے ہیں۔انہوں نے رمشا اقبال کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ وہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے لیے آسٹریلیا لے کر گئے تھے اور وہاں اپنی سکیورٹی کمپنی میں ملازمت بھی فراہم کی تھی۔ثاقب چدھڑ کے مطابق رمشا اقبال نے آسٹریلیا میں ان کے کاروباری شریک کے خلاف مبینہ ہراسانی کا مقدمہ دائر کرکے 10 لاکھ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا، تاہم بعد ازاں معاملہ ایک لاکھ 65 ہزار ڈالر میں طے پایا، جو مبینہ طور پر رمشا پاکستان لے کر آئیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں بہنوں نے ان کے خلاف بھی اسی نوعیت کا طریقہ اختیار کرنے کی کوشش کی۔ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کی ذاتی زندگی سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اداکارہ جانتی تھیں کہ وہ پہلے سے شادی شدہ ہیں اور اس کے باوجود ان کی دوسری بیوی بننے پر آمادہ تھیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں مومنہ اقبال کی 2018ء میں ہونے والی شادی اور بعد ازاں طلاق کا علم نہیں تھا، تاہم بعد میں انہیں اس شادی کے بارے میں معلوم ہوا اور وہ مومنہ کے پہلے شوہر سے بھی واقف ہوئے۔ثاقب چدھڑ نے مزید دعویٰ کیا کہ مومنہ اقبال کے وکیل نے ان سے رابطہ کرکے 20 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق رقم دینے سے انکار پر 9 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی جبکہ مومنہ اقبال کی جانب سے 11 کروڑ روپے میں معاملہ طے کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی۔انہوں نے اپنے دعوؤں کے ثبوت کے طور پر مومنہ اقبال کے وکیل سے ملاقات سے متعلق شواہد اور ایک مبینہ صلح نامہ بھی پیش کیا۔واضح رہے کہ مومنہ اقبال نے چند ماہ قبل انسٹاگرام پر ایک پوسٹ کے ذریعے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایک رکن صوبائی اسمبلی کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کے بعد ثاقب چدھڑ کا نام سامنے آیا تھا۔اداکارہ نے معاملہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) تک پہنچایا، جبکہ ثاقب چدھڑ نے بھی حکام کے سامنے اپنا مؤقف پیش کیا۔