1965 سے 2025 تک پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی اور جدید دفاعی سفر

1965 سے 2025 تک پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی اور جدید دفاعی سفر

Sep 5, 2026|ویب ڈیسک

 کو ئٹہ( اباسین خبر)تاریخ گواہ ہے کہ جنگ میں فیصلہ کن ناکامی کا سامنا کرنے والی طاقتیں اکثر بالآخر مذاکرات اور پرامن حل کی طرف آنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی نے 1945ء میں برلن پر قبضے کے بعد غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے، جبکہ 1982ء میں جزائر فاک لینڈ پر حملہ کرنے والا ارجنٹائن بھی برطانیہ سے فوجی شکست کے بعد جنگ بندی اور اپنی فوج واپس بلانے پر آمادہ ہوگیا۔مئی 2025ء میں بھی بھارت کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا، جب 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب اور پھر 10 مئی کو فضائی جھڑپوں کے دوران بھارتی فضائیہ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ تاہم بھارتی عسکری قیادت کے لیے جنگی میدان میں ناکامی کوئی نئی بات نہیں۔ 6 ستمبر 1965ء بھی ایسا ہی دن تھا، جب لاہور جمخانہ میں کھانے کی خواہش پاکستانی مسلح افواج کی بروقت اور بھرپور مزاحمت کے باعث پوری نہ ہوسکی۔سترہ روزہ جنگ کے دوران پاکستانی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، بہادری، ثابت قدمی اور قومی جذبے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا۔ اس جنگ میں قربانی، بہادری اور عزم کی ایسی کئی داستانیں رقم ہوئیں جو آج بھی قومی تاریخ کا روشن حصہ ہیں۔1965ء کی جنگ نے ثابت کیا کہ مضبوط ارادے، پیشہ ورانہ تیاری اور قومی اتحاد سے لیس افواج کسی بھی جارحیت کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکتی ہیں۔