یوکرین تنازع کا پرامن حل ممکن، روس نے رابطوں کا عمل جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا

یوکرین تنازع کا پرامن حل ممکن، روس نے رابطوں کا عمل جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا

Sep 5, 2026|ویب ڈیسک

ماسکو( مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدارتی ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یوکرین تنازع کے پرامن حل کے امکانات اب بھی موجود ہیں، تاہم اس وقت اس مقصد کے لیے کوئی واضح اور ٹھوس پیشگی شرائط موجود نہیں۔دیمتری پیسکوف نے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ممکنہ دورہ روس سمیت یوکرین میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری کے منصوبے پر بھی روسی حکومت کا مؤقف بیان کیا۔مشرقی اقتصادی فورم میں صدر ولادیمیر پوتن کے بیانات کے بعد کسی نئے امن اقدام کے امکان سے متعلق سوال پر دیمتری پیسکوف نے کہا کہ اس حوالے سے ابھی کوئی بات کرنا قبل از وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اس وقت پرامن حل کے لیے کوئی مخصوص پیشگی شرائط موجود نہیں، تاہم مسئلے کے حل کے لیے کام اور رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔روسی صدارتی ترجمان کے مطابق امریکی حکام نے اپنی مثبت سوچ برقرار رکھی ہوئی ہے اور وہ ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسری جانب روس بھی تنازع کے خاتمے اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے پرامن ذرائع اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس کا مؤقف بھی تبدیل نہیں ہوا، جس کا اظہار صدر ولادیمیر پوتن نے دو سال قبل روسی وزارت خارجہ میں کیا تھا۔ ان کے مطابق یوکرینی حکومت اس مؤقف سے بخوبی آگاہ ہے اور یہی عوامل پرامن حل کے امکان کو برقرار رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ روس اور یوکرین مستقبل میں پرامن حل کی جانب پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے روس کے دورے سے متعلق سوال پر پیسکوف نے کہا کہ دونوں امریکی نمائندوں کے روسی حکام سے رابطے ہونے کے بعد کریملن اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ روس پیشگی طور پر کسی بات کا اعلان نہیں کرے گا، تاہم ملاقاتیں اور رابطے ہونے کے بعد ان کی اطلاع دے دی جائے گی۔دیمتری پیسکوف کے مطابق وٹکوف اور کشنر کے دورہ روس سے قبل یوکرینی حملوں کو روکنے کے معاملے پر ماسکو اور کیف کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہوں گے۔