اشفاق احمد کو دنیا سے رخصت ہوئے 22 برس بیت گئے
لاہور( شوبز ڈیسک) عظیم ادیب، مفکر اور روشن فکر رہنما اشفاق احمد کو مداحوں سے بچھڑے 22 برس گزر گئے، تاہم ان کی علمی و ادبی خدمات اور یادیں آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔معروف مصنف اشفاق احمد 22 اگست 1925ء کو ضلع فیروزپور کے علاقے مکتسر میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دیال سنگھ کالج اور اورینٹل کالج لاہور میں تدریسی خدمات انجام دیں۔اشفاق احمد ان نامور ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں جو قیام پاکستان کے فوری بعد ادبی منظرنامے پر نمایاں ہوئے۔ 1953ء میں ان کا افسانہ ’’گڈریا‘‘ ان کی شہرت کا باعث بنا۔ وہ ’’داستان گو‘‘ اور ’’لیل و نہار‘‘ جیسے رسائل کے مدیر بھی رہے۔ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’ایک محبت سو افسانے‘‘، ’’اجلے پھول‘‘، ’’سفر مینا‘‘، ’’پھلکاری‘‘ اور ’’سبحان افسانے‘‘ شامل ہیں۔ ’’ایک محبت سو افسانے‘‘ اور ’’اجلے پھول‘‘ ان کے ابتدائی افسانوں کے مجموعے ہیں۔بعد ازاں ’’سفر در سفر‘‘ بطور سفرنامہ، ’’کھیل کہانی‘‘ بطور ناول، جبکہ ’’ایک محبت سو ڈرامے‘‘ اور ’’توتا کہانی‘‘ بطور ڈرامے ان کی نمایاں تصانیف میں شامل ہوئے۔حکومت پاکستان نے ادبی خدمات کے اعتراف میں اشفاق احمد کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی، ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز جیسے اعزازات سے نوازا۔صوفی مزاج رکھنے والے اشفاق احمد 7 ستمبر 2004ء کو لاہور میں انتقال کر گئے اور انہیں ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔