تاجکستان نے افغان سرحد پر منشیات سمگلنگ میں اضافے کا دعویٰ

تاجکستان نے افغان سرحد پر منشیات سمگلنگ میں اضافے کا دعویٰ

Jul 17, 2026|ویب ڈیسک

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) تاجکستان کے انسدادِ منشیات ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے منشیات کی سمگلنگ کے اہم راستوں میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق تاجک سکیورٹی فورسز نے رواں سال سرحدی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 17 مبینہ افغان منشیات سمگلرز کو ہلاک جبکہ 18 افراد کو گرفتار کیا۔افغانستان انٹرنیشنل کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گرفتار کیے گئے افراد کے قبضے سے 601 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کی گئیں۔ مزید بتایا گیا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران افغان سرحد پر مجموعی طور پر ایک ٹن 513 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ افغانستان میں منشیات اور مصنوعی نشہ آور اشیا تیار کرنے والی لیبارٹریاں اب بھی فعال ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران افغان سرحد پر 2 ہزار 742 کلوگرام منشیات ضبط کی گئیں، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں۔رپورٹ میں بعض عالمی ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ افغانستان میں منشیات کی غیرقانونی تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی عسکری سرگرمیوں اور جدید ہتھیاروں کی خریداری میں استعمال ہونے کے خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں، جس کے باعث خطے کے امن و سلامتی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔نوٹ: اس خبر میں شامل دعوے تاجکستان کے انسدادِ منشیات ادارے اور افغانستان انٹرنیشنل سے منسوب ہیں، جن پر افغان حکام کا مؤقف اس متن میں شامل نہیں ہے۔