کوہاٹ پولیس لائنز کے قریب خودکش حملہ، 16 افراد شہید
کوہاٹ (اباسین خبر) کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب خودکش حملے کے نتیجے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 16 افراد شہید ہوگئے، جبکہ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق پرانی پولیس لائنز کے قریب بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی گئی، دھماکے کے بعد ایک اور خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ واقعے میں 5 پولیس اہلکار اور 11 شہری شہید ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس لائنز کے احاطے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپ جاری ہے، جبکہ اب تک ایک دہشتگرد مارا جاچکا ہے۔پولیس کے مطابق زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا جارہا ہے، جبکہ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد ڈی ایچ کیو اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔حکام کے مطابق جائے وقوعہ پر ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینسز، ریسکیو و ریکوری گاڑیاں اور 40 سے زائد اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نور الامین ریسکیو آپریشن کی نگرانی کررہے ہیں اور امدادی سرگرمیاں آپریشن مکمل ہونے تک جاری رہیں گی۔آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے کی پولیس دہشتگردی کے خلاف آہنی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور بزدلانہ حملے اس کے حوصلے پست نہیں کرسکتے۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج اور بیرونی پشت پناہی میں سرگرم دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ قومی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی اور ان کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے دھماکے کی نوعیت اور وجوہات کے بارے میں رپورٹ بھی طلب کرلی۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کوہاٹ اولڈ پولیس لائنز میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس حکام سے رپورٹ طلب کی۔ انہوں نے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی کیلئے تمام دستیاب وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ نے ہسپتالوں میں زخمیوں کے فوری علاج اور ضروری طبی سہولیات یقینی بنانے، جبکہ شدید زخمیوں کو ضرورت کے مطابق دیگر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔