بھارت میں طلبہ کا احتجاج، تعلیمی اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ

بھارت میں طلبہ کا احتجاج، تعلیمی اصلاحات اور جوابدہی کا مطالبہ

Jul 21, 2026|ویب ڈیسک

ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر طلبہ کی احتجاجی تحریک میں شدت آ گئی ہے، جہاں مختلف شہروں میں مظاہرین نے تعلیمی اصلاحات اور حکومتی جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ بعض مظاہرین نے وزیراعظم نریندر مودی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق طلبہ نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کی، جسے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔ اس دوران متعدد مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا، تاہم مختلف مقامات پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔رپورٹس کے مطابق طلبہ، والدین اور سماجی کارکنان تعلیمی نظام میں اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور طلبہ کے مسائل کے حل کے مطالبات کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوئے۔احتجاجی مظاہروں کو اس وقت مزید تقویت ملی جب معروف سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے واقعے پر ردعمل سامنے آیا۔ اس کے بعد مظاہرین نے احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کی اور بعض گروپوں نے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔احتجاجی تحریک کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ طلبہ کے ساتھ روا رکھا جانے والا طرزِ عمل قابلِ مذمت ہے اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔رپورٹس کے مطابق میڈیکل داخلہ امتحان کے مبینہ پیپر لیک اسکینڈل سے لاکھوں امیدوار متاثر ہوئے، جبکہ اس معاملے اور طلبہ کی خودکشیوں کے واقعات نے ملک بھر میں تشویش پیدا کی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق تعلیمی نظام میں خامیوں، امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے بڑھتے ہوئے تحفظات نے حکومت پر اصلاحات کے لیے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔