مودی حکومت کے خلاف طلبہ احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

مودی حکومت کے خلاف طلبہ احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا

Jul 23, 2026|ویب ڈیسک

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں تعلیمی نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج دہلی سے نکل کر مختلف ریاستوں تک پھیل گیا، جہاں نوجوانوں نے حکومت کے خلاف مظاہرے جاری رکھے ہوئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق احتجاجی مظاہرین حکومت سے تعلیمی نظام میں شفافیت اور مبینہ بے ضابطگیوں پر احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر تعلیم دھرمندر پردھان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں کیرالہ، اروناچل پردیش، تمل ناڈو، گوا، گجرات، بہار اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں احتجاجی مظاہروں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔رپورٹس کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کو احتجاج میں شرکت کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا۔کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور طالبات کے ساتھ ناروا سلوک کے واقعات تشویشناک ہیں۔بھارتی پارلیمنٹ میں قائدِ حزب اختلاف ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت کے طرزِ حکمرانی کو آمریت سے تعبیر کیا، جبکہ کانگریس کے جنرل سیکرٹری کے سی وینوگوپال نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ احتجاج سے سامنے آنے والی تصاویر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بھارت میں پُرامن احتجاج اور اختلافِ رائے کے حق کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔