تہران اجلاس سے قبل کمرے سے جاسوسی آلہ برآمد ہونے کا دعویٰ

تہران اجلاس سے قبل کمرے سے جاسوسی آلہ برآمد ہونے کا دعویٰ

Oct 27, 2026|ویب ڈیسک

تہران ( مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں چار فریقی اجلاس سے قبل کمرے کی سکیورٹی چیکنگ کے دوران ریکارڈنگ کرنے والا مشکوک آلہ برآمد ہوا۔غریدہ فاروقی کے مطابق، کواڈ اجلاس کے آغاز سے قبل پروٹوکول کے تحت کمرے کی سکیورٹی جانچ کی گئی تو پاکستانی اور ترکیہ کی انٹیلی جنس ٹیموں کو ریکارڈنگ کرنے والا مشکوک آلہ ملا، جسے فوری طور پر کمرے سے ہٹا دیا گیا۔ ان کے مطابق کمرے کو مکمل طور پر محفوظ بنانے کے بعد اجلاس شروع کیا گیا۔دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران کے چار فریقی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا گیا، جس میں چاروں ممالک نے امن و سلامتی کے امور پر مذاکرات اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس کی میزبانی ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کی۔ اجلاس میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے شرکت کی۔مشترکہ اعلامیے میں خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر مسلسل مشاورت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ شرکا نے چاروں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔اعلامیے میں کسی نئے دفاعی معاہدے، مشترکہ سکیورٹی نظام یا آئندہ اجلاس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔