ایران سے جنگ بندی وقت کا ضیاع تھی، ٹرمپ کا دعویٰ

ایران سے جنگ بندی وقت کا ضیاع تھی، ٹرمپ کا دعویٰ

Oct 27, 2026|ویب ڈیسک

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مختصر مدت کی جنگ بندی کو وقت کا ضیاع قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور بحری ناکہ بندی کے باعث کئی ماہ سے کوئی ایرانی جہاز وہاں سے نہیں گزر سکا۔ریاست مسیسیپی میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے تاریخ کی بہترین بحری ناکہ بندیوں میں سے ایک نافذ کر رکھی ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے دوران چند جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے سوا کئی ماہ سے کوئی ایرانی جہاز ناکہ بندی عبور نہیں کر سکا۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں کی بلکہ ایران نے امریکا کے خلاف جنگ چھیڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے اور اسے وقت کا ضیاع سمجھتے تھے، تاہم انہوں نے متعلقہ ماہرین کی رائے کو ترجیح دی۔امریکی صدر نے اعتراف کیا کہ ایرانی بہترین ہتھیار تیار کرتے ہیں، تاہم ان کے بقول امریکا نے ایران کو بری طرح شکست دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ایران کے فراہم کردہ سڑک کنارے نصب بموں کے باعث ہوئیں۔وسط مدتی انتخابات سے قبل ری پبلکن امیدواروں کی مہم تیزامریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن امیدواروں کی حمایت میں انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ وہ مختلف ریاستوں میں جلسے کر رہے ہیں تاکہ کانگریس میں ری پبلکن پارٹی کی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے اپنے حامیوں کو متحرک کر سکیں۔ تاہم ایران کے ساتھ جنگ، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث ری پبلکن امیدواروں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے۔روئٹرز کے مطابق، ٹرمپ نے 26 اکتوبر کو ریاست مسیسیپی کے شہر کورنتھ میں جلسے سے خطاب کیا اور ری پبلکن سینیٹر سنڈی ہائیڈ اسمتھ کی حمایت میں انتخابی مہم چلائی۔ ہائیڈ اسمتھ کو ڈیموکریٹ امیدوار اسکاٹ کولم کی جانب سے توقع سے زیادہ سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ اپنی امیدوار کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ جلسے میں تقریباً 5 ہزار 500 حامی شریک ہوئے۔ٹرمپ کے آئندہ انتخابی شیڈول میں ٹیکساس، جنوبی کیرولائنا اور آئیووا سمیت دیگر ریاستوں کے دورے شامل ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق، ٹرمپ 27 اکتوبر کو ٹیکساس کے شہروں لباک اور کارپس کرسٹی میں جلسے کرنے والے ہیں، جبکہ ری پبلکن حکام نے 31 اکتوبر کو کنساس کے شہر سلینا میں بھی ان کے جلسے کا اعلان کیا ہے۔امریکی وسط مدتی انتخابات3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ انتخابی نتائج سے کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، 26 اکتوبر تک 3 کروڑ سے زائد امریکی اپنے ووٹ ڈال چکے تھے۔روئٹرز کے مطابق، رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ سینیٹ میں بھی ان کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس نے کانگریس میں اکثریت حاصل کر لی تو ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹس نے بھی اپنی انتخابی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔