ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری سے ایک رن پہلے رکنے والے 6 بدقسمت بلے باز
لاہور ( سپورٹس ڈیسک)ٹیسٹ کرکٹ میں سنچری بنانا ہر بلے باز کی خواہش ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات بیٹر 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہ جاتا ہے اور ٹیم کی آخری وکٹ گرنے کے باعث ایک رن کی کمی سے سنچری مکمل نہیں کرپاتا۔ تاریخِ ٹیسٹ میں ایسے صرف 6 بلے باز گزرے ہیں۔جنوبی افریقا کے اینڈریو ہال نے 21 اگست 2003ء کو انگلینڈ کے خلاف ہیڈنگلے ٹیسٹ میں 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ جنوبی افریقا کی پہلی اننگز 365 رنز پر ختم ہوئی اور ہال سنچری سے محروم رہ گئے۔جنوبی افریقا کے سابق آل راؤنڈر شان پولاک بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ 15 نومبر 2002ء کو سری لنکا کے خلاف سپر اسپورٹ پارک ٹیسٹ میں انہوں نے 99 رنز ناٹ آؤٹ بنائے، جبکہ جنوبی افریقا کی اننگز 448 رنز پر اختتام پذیر ہوئی۔آسٹریلیا کے سابق کپتان اسٹیو وا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ 3 فروری 1995ء کو انگلینڈ کے خلاف واکا گراؤنڈ ٹیسٹ میں وا 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے اور آسٹریلیا کی پہلی اننگز 402 رنز پر ختم ہوگئی۔پاکستان کے سابق کپتان مصباح الحق بھی اس منفرد فہرست کا حصہ ہیں۔ 21 اپریل 2017ء کو ویسٹ انڈیز کے خلاف سبینا پارک ٹیسٹ میں مصباح نے 99 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی، جبکہ پاکستان کی پہلی اننگز 407 رنز پر ختم ہوگئی۔انگلینڈ کے معروف بلے باز جیفری بائیکاٹ بھی 99 رنز پر ناٹ آؤٹ رہنے کا یہ تلخ تجربہ کرچکے ہیں۔ 14 دسمبر 1979ء کو آسٹریلیا کے خلاف واکا گراؤنڈ ٹیسٹ میں انگلینڈ کی اننگز 215 رنز پر سمٹ گئی اور بائیکاٹ سنچری سے محروم رہے۔اس فہرست میں نسبتاً حالیہ نام انگلینڈ کے جونی بیئرسٹو کا ہے، جنہوں نے 19 جولائی 2023ء کو آسٹریلیا کے خلاف ایشز سیریز کے مانچسٹر ٹیسٹ میں 99 رنز ناٹ آؤٹ بنائے۔ انگلینڈ کی پہلی اننگز 592 رنز پر ختم ہوئی اور بیئرسٹو بھی سنچری مکمل نہ کرسکے۔یہ چھوں واقعات ٹیسٹ کرکٹ کے نایاب لمحات میں شمار ہوتے ہیں، جہاں بلے باز اپنی وکٹ بچانے میں کامیاب رہا مگر ٹیم کی آخری وکٹ گرنے کے باعث سنچری کے لیے درکار صرف ایک رن حاصل نہ کرسکا۔