ڈیرہ اسماعیل خان میں نہر کو شگاف، متعدد آبادیاں زیرِ آب آگئیں
ڈیرہ اسماعیل خان( اباسین خبر) تحصیل پہاڑپور کے قریب چشمہ رائٹ بینک کینال میں شگاف پڑنے سے متعدد دیہات اور آبادیاں پانی میں ڈوب گئیں، جس سے 200 سے زائد گھرانے متاثر ہوئے ہیں اور متاثرہ خاندانوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔ذرائع کے مطابق شگاف پڑنے کے وقت نہر میں تقریباً 3 ہزار 800 کیوسک پانی بہہ رہا تھا جبکہ شگاف کی چوڑائی 100 سے 150 فٹ کے درمیان بتائی گئی ہے۔ پانی قریبی آبادیوں میں داخل ہونے کے باعث مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔صورتحال کے پیش نظر پاک فوج کے دستے فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ متاثرین کے انخلا کے لیے 2 کیمپ قائم کیے گئے ہیں جبکہ مویشیوں اور دیگر جانوروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔متاثرہ خاندانوں کو پہاڑپور کے مختلف سرکاری اسکولوں کی عمارتوں میں منتقل کیا جارہا ہے، جبکہ مقامی افراد اپنی مدد آپ کے تحت متاثرین کو کھانا، پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیا فراہم کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان نے رات گئے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیا۔ تاہم پانی نکالنے اور متاثرین تک خوراک و امدادی سامان کی بروقت فراہمی میں تاخیر پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔مقامی آبادی کے مطابق سی آر بی سی نہر میں شگاف پڑنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں، گزشتہ برس بھی کاٹھ گڑھ کے قریب نہر ٹوٹنے سے شہریوں اور کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بار بار پیش آنے والے واقعات کے باوجود نہر کی مستقل بحالی اور کمزور مقامات کی مؤثر مرمت نہیں ہوسکی، جس کے باعث حالیہ شگاف نے ایک بار پھر آبادیوں اور زرعی اراضی کے لیے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔پاک فوج کے دستے متاثرہ آبادی کے انخلا، امدادی سرگرمیوں اور دیگر ہنگامی اقدامات میں مصروف ہیں جبکہ مقامی سطح پر بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔