پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی، اسٹیٹ بینک

پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4.5 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی، اسٹیٹ بینک

Aug 11, 2026|ویب ڈیسک

کراچی( کامرس ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ششماہی زری پالیسی رپورٹ اگست 2026ء جاری کردی، جس میں مالی سال 2027ء کے دوران ملکی معیشت کی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔مرکزی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے نتیجے میں توانائی، نقل و حمل اور بیمہ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم عالمی معاشی مشکلات کے باوجود مالی سال 2026ء کے معاشی نتائج مجموعی طور پر توقعات کے مطابق رہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محتاط زری پالیسی نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے بالواسطہ اثرات کو محدود رکھنے میں مدد دی جبکہ مہنگائی سے متعلق توقعات بھی قابو میں رہیں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق حکومت نے عالمی قیمتوں میں اضافے کو بروقت مقامی قیمتوں میں منتقل کیا، جبکہ حکومتی اخراجات میں احتیاط اور ہدفی مالی معاونت نے مجموعی طلب کو متوازن رکھنے میں کردار ادا کیا۔مرکزی بینک نے پیشگوئی کی ہے کہ مالی سال 2027ء کے اختتام تک مہنگائی شرح ہدف کی بالائی سطح کے قریب مستحکم ہوجائے گی، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے 0 سے 1 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق دسمبر 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 20.20 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2027ء کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مزید اضافے کی توقع ہے۔اسٹیٹ بینک نے مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو پاکستان کے معاشی منظرنامے کے لیے اہم خطرہ قرار دیا۔ عالمی توانائی اور اجناس کی قیمتیں توقع سے زیادہ بڑھنے کی صورت میں ملکی معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔مرکزی بینک نے سیلاب سمیت موسمیاتی خطرات کو بھی معاشی سرگرمیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ساختی اصلاحات میں تاخیر برآمدات اور ملکی پیداواریت کو متاثر کرسکتی ہے۔