تنخواہ دار طبقہ سب سے بڑا ٹیکس دہندہ ثابت، 633 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا

تنخواہ دار طبقہ سب سے بڑا ٹیکس دہندہ ثابت، 633 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا

Jul 6, 2026|ویب ڈیسک

لاہور( کامرس ڈیسک) پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے دوران تنخواہ دار طبقہ انکم ٹیکس کی ادائیگی میں سب سے آگے رہا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس طبقے نے مجموعی طور پر 633 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو برآمد کنندگان، رئیل اسٹیٹ کے شعبے اور ریٹیل کاروبار سے وصول ہونے والے مجموعی ٹیکس سے بھی زیادہ ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال میں قومی خزانے میں مجموعی طور پر 13 ہزار 10 ارب روپے محصولات جمع ہوئے، جن میں تنخواہ دار افراد کا حصہ نمایاں رہا۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تنخواہ دار طبقے کی جانب سے ادا کیے گئے انکم ٹیکس میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک سال قبل اس مد میں 585 ارب روپے جمع ہوئے تھے، جبکہ حالیہ مالی سال میں یہ رقم بڑھ کر 633 ارب روپے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب برآمدی شعبے نے مالی سال 2025-26 کے دوران 174 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جبکہ اس سے پہلے کے مالی سال میں اس شعبے سے 176 ارب روپے وصول ہوئے تھے، یعنی معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے حاصل ہونے والی ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس شعبے سے 191 ارب روپے جمع کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال یہ وصولیاں 118 ارب روپے تھیں۔مزید تفصیلات کے مطابق ریٹیل شعبے سے مختلف قانونی شقوں کے تحت بھی قابلِ ذکر محصولات حاصل ہوئے۔ شق 236-جی کے تحت 25 ارب روپے وصول کیے گئے، جو گزشتہ مالی سال کے 24 ارب روپے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اسی طرح شق 236-ایچ کے تحت 45 ارب روپے جمع ہوئے، جبکہ ایک سال قبل اس مد میں 38 ارب روپے وصول کیے گئے تھے۔حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا ہے۔ نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو کچھ ٹیکس ریلیف فراہم کیا گیا ہے، جبکہ ریٹیل کاروبار کے لیے مقررہ ٹیکس کا نیا نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے تاکہ محصولات میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔