سانحہ پشاور کے متاثرہ خاندانوں میں ایک کروڑ 90 لاکھ روپے تقسیم
پشاور( اباسین خبر)گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی کی ہدایت پر سانحہ پشاور سے متاثرہ خاندانوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 90 لاکھ روپے کے امدادی چیکس تقسیم کر دیے گئے۔پشاور کے علاقے دیر کالونی میں 15 اکتوبر کو نجی اسکول کی چھت گرنے سے 32 بچے اور دو خواتین اساتذہ جاں بحق ہوئے، جبکہ 40 سے زائد بچے زخمی ہو گئے تھے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے جاں بحق بچوں کے اہل خانہ کو فی خاندان 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کو فی کس 2 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا تھا۔ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن (ر) ثناء اللہ خان نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور بچوں کی اموات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی انتظامیہ زخمی بچوں کی حتمی فہرست مرتب کر رہی ہے۔ کوائف کی تصدیق مکمل ہوتے ہی زخمیوں کو بھی 24 گھنٹوں کے اندر امدادی رقم فراہم کر دی جائے گی۔واقعے کے بعد اسکول کے مالک کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق بچوں نے عمارت کی خستہ حالی اور چھت و دیواریں گرنے کے خدشے سے انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا، تاہم ان کی شکایات پر توجہ نہیں دی گئی۔یہ حادثہ تھانہ یکہ توت کی حدود میں پیش آیا، جہاں حادثے کے وقت اسکول میں 110 بچے موجود تھے۔ ایف آئی آر میں اسکول کے مالک، شریک مالکان اور ٹھیکیدار کو نامزد کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق الخیر ایجوکیشن سسٹم کے نام سے قائم اسکول دیر کالونی کے محلہ سعید آباد میں واقع تھا۔ پلاٹ 2024 میں لیز پر لے کر اس پر ٹھیکیدار شاہ زمان کے ذریعے عمارت تعمیر کرائی گئی تھی۔مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال ہوا، جس میں بعد ازاں اسکول قائم کیا گیا۔دوسری جانب صوبائی حکومت نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے صوبے بھر میں حفاظتی معائنے کرانے اور ضلعی سطح پر انکوائری کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔