خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے خطرہ ہیں، وزیر خزانہ

خلیجی توانائی تنصیبات پر حملے پاکستانی معیشت کیلئے خطرہ ہیں، وزیر خزانہ

Oct 17, 2026|ویب ڈیسک

بینکاک( کامرس ڈیسک)وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ابتدائی اثرات سے پاکستان نمٹنے میں کامیاب رہا ہے، تاہم سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں توانائی کی تنصیبات پر حملے ملکی معیشت کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے نومبر تک توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کر رکھے ہیں، جبکہ موسم سرما کے لیے بھی منصوبہ بندی جاری ہے، جب گھریلو سطح پر توانائی کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ان کے مطابق ملک میں ایندھن کی قلت پیدا ہوئی، نہ پیٹرول پمپس پر قطاریں لگیں اور نہ ہی امن و امان کی ایسی صورتحال سامنے آئی جیسی بعض دوسرے ممالک میں دیکھی گئی۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ حکومت ہنگامی ضرورت پیش آنے تک ایل این جی کی فوری خریداری سے گریز کرے گی، کیونکہ اس طریقے سے درآمد کی جانے والی گیس پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت ملنے والی کھیپوں کے مقابلے میں مہنگی پڑتی ہے۔محمد اورنگزیب نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے سے معاشی سرگرمیاں معمول پر آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات خاص طور پر پریشان کن ہے کہ اب توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے مزید بگڑنے کے امکانات کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، تاہم بنیادی ڈھانچے پر حملے جاری رہے تو کشیدگی میں کمی کے باوجود حالات معمول پر آنے میں زیادہ وقت لگے گا۔وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان گزشتہ عرصے سے مالیاتی نظم و ضبط اور استحکام کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ٹیکس وصولیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت ایسے کاروباروں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جو صارفین سے سیلز ٹیکس وصول کرنے کے باوجود اسے قومی خزانے میں جمع نہیں کراتے۔انہوں نے بتایا کہ اس طرز کی ٹیکس چوری سے اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جبکہ انکم ٹیکس کی وصولی مزید بہتر بنانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومتی اصلاحات کو صنعتی شعبے، دباؤ ڈالنے والے گروپوں اور مفاداتی حلقوں کی مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان کے بقول موجودہ نظام میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے تو مزاحمت سامنے آنا فطری امر ہے۔واضح رہے کہ خبر کے مطابق فروری میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی توانائی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ایران کی جوابی کارروائیوں سے خلیجی ممالک میں تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہوئی۔ادھر یمن میں خانہ جنگی کی شدت دوبارہ بڑھ گئی ہے اور حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے توانائی مراکز، ہوائی اڈوں اور دیگر اہم تنصیبات کو متعدد حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔