ایران پر ممکنہ جوہری حملے کی تابکاری پاکستان تک پہنچنے کا خدشہ
واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی پروفیسر رابرٹ پیپ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ممکنہ جوہری حملے کے اثرات پاکستان اور افغانستان تک پھیل سکتے ہیں۔امریکی پروفیسر نے ایران کے پہاڑ پک ایکس (کوہ کولنگ) پر ممکنہ جوہری حملے کے اثرات سے متعلق ایک نقشہ جاری کیا ہے، جس میں پاکستان کے مغربی اور شمالی علاقوں میں تابکاری پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ان کے مطابق افغانستان کے ایران سے متصل علاقوں سمیت مختلف حصے بھی متاثر ہوسکتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں تک بھی حملے کے اثرات پہنچنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری حملے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ٹکر کارلسن کے مطابق نیتن یاہو ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ میں اپنے قریبی ساتھیوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پہاڑوں میں موجود زیرِ زمین سرنگوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی روایتی ہتھیار مؤثر ثابت نہیں ہوسکتے، اسی لیے جوہری حملے کا امکان زیرِ غور آسکتا ہے۔