خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سے شدت پسندوں کے انخلا کی تیاری

خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع سے شدت پسندوں کے انخلا کی تیاری

Oct 27, 2026|ویب ڈیسک

پشاور ( اباسین خبر) خیبرپختونخوا کے دہشت گردی سے متاثرہ 12 اضلاع میں امن کے قیام کے لیے طالبان اور دیگر مسلح شدت پسند گروپوں کو علاقے چھوڑنے پر آمادہ کرنے کا لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل (اے آر ڈی سی) کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔اے آر ڈی سی کے چیئرمین شوکت اللہ نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کونسل کے ارکان اپنے متعلقہ اضلاع میں قبائلی روایات کے مطابق مذاکرات کا آغاز کریں گے۔ اس عمل میں جرگوں، مقامی عمائدین اور علاقے کے لوگوں کا تعاون حاصل کیا جائے گا تاکہ مسلح گروپوں کو غیر مشروط طور پر علاقے چھوڑنے پر آمادہ کیا جا سکے۔مشیر اطلاعات محمود جان بابر کے مطابق ہر ضلع میں کونسل کے متعلقہ رکن کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی، جبکہ مقامی سطح پر رابطوں اور مشاورت کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھایا جائے گا۔ان 12 اضلاع میں ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت، بنوں، باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر شامل ہیں۔17 اکتوبر کو 48 رکنی ایریا ریپریزنٹیٹو اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ سابق گورنر شوکت اللہ کی سربراہی میں قائم اس کونسل کے ذریعے مقامی نمائندوں کو امن و امان، ترقیاتی ضروریات اور عوامی مسائل کے حل میں کردار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اے آر ڈی سی کے چیئرمین شوکت اللہ کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں متعلقہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جائے گی۔ ان کے مطابق ان اضلاع میں پائیدار امن کا قیام بھی ضروری ہے، جس کے لیے قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے جائیں گے۔