پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر، ٹیکس وصولی 3.1 ٹریلین روپے ہوگئی

پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر، ٹیکس وصولی 3.1 ٹریلین روپے ہوگئی

Oct 27, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک)وفاقی مشیر برائے اقتصادی و مالیاتی اصلاحات خرم شہزاد کے مطابق مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 52 فیصد اضافے کے ساتھ 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد بڑھ کر 3.1 ٹریلین روپے ریکارڈ کی گئی۔خرم شہزاد نے پہلی سہ ماہی کی معاشی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی برآمدات 11 فیصد اضافے کے ساتھ 11.2 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 14 فیصد بڑھ کر 10.9 ارب ڈالر ہوگئیں۔آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 18 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 1.25 ارب ڈالر رہیں، جبکہ فری لانسرز کی آمدنی 46 فیصد اضافے کے ساتھ 550 ملین ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔انہوں نے بتایا کہ 3 بڑی عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کو ’بی‘ کیٹیگری میں مستحکم قرار دیا ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے جائزے کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ بھی طے پا گیا، جس کے تحت بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی اضافی فنانسنگ ملنے کی توقع ہے۔مالیاتی شعبے میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.1 ٹریلین روپے رہی، جو پہلی سہ ماہی کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہے۔ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 45 فیصد بڑھ کر 57 لاکھ 70 ہزار ہوگئی، جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں کی تعداد 55 فیصد اضافے کے بعد 6 لاکھ 56 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ستمبر 2026 میں اسٹاک مارکیٹ میں 25,281 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے، جن میں 85 فیصد کا تعلق جنریشن زی اور ملینلز سے تھا۔ پہلی سہ ماہی میں 4 ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) کے ذریعے 4.6 ارب روپے جمع کیے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں جمع ہونے والی رقم سے 5 گنا زیادہ ہیں۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی سرمایہ کاری 28 فیصد اضافے کے ساتھ 14.3 ارب ڈالر ہوگئی۔ مرکزی حکومت کا مجموعی قرض جون 2026 کے مقابلے میں 714 ارب روپے کم ہو کر 86 ٹریلین روپے رہ گیا، جبکہ ملکی قرض 684 ارب روپے کمی کے بعد 58.8 ٹریلین روپے پر آگیا۔ بیرونی قرض 98.2 ارب ڈالر کی سطح پر برقرار رہا۔حکومتی مالی معاونت کی اسکیموں کے تحت وزیراعظم کے ’اپنا گھر‘ ہاؤسنگ پروگرام کے لیے منظور شدہ 426 ارب روپے میں سے 76 ارب روپے جاری کیے گئے، جبکہ ’زرخیز-ای‘ اسکیم کے لیے مختص 7.86 ارب روپے میں سے 2.14 ارب روپے جاری ہوئے۔ الیکٹرک موبلٹی اسکیم کے تحت 98 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری کیے گئے اور شہریوں کو 2,816 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ٹارگٹڈ فیول ریلیف کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔ یہ اسکیم موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے مخصوص ہے۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ ریٹیل ادائیگیوں کے حجم کا 92 فیصد ڈیجیٹل ہوچکا ہے، جبکہ ڈیجیٹل مرچنٹس کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ راست اور کیو آر کوڈ ادائیگیوں کے نظام کو ملک بھر میں وسعت دی جارہی ہے، جبکہ حکومتی ادائیگیوں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تناسب 75 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ای انوائسنگ کے نفاذ میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ 13,900 سے زائد ریٹیلرز کی 37,900 سے زیادہ برانچز پوائنٹ آف سیل نظام سے منسلک ہوچکی ہیں۔ قومی فیس لیس سینٹر، آئی آر آئی ایس 3.0، مصنوعی ذہانت اور ٹریک اینڈ ٹریس نظام کے ذریعے ٹیکس انتظامیہ کو مزید شفاف بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے حوالے سے بتایا گیا کہ پہلی سہ ماہی میں 15,440 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 45 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے 99.9 فیصد رجسٹریشنز ڈیجیٹل طریقے سے مکمل کی گئیں۔خرم شہزاد کے مطابق ستمبر 2026 میں پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رہا، جو جون 2024 میں ریکارڈ کی گئی 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے نمایاں طور پر کم ہے۔