شرح سود سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ

شرح سود سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ

Oct 27, 2026|ویب ڈیسک

کراچی ( کامرس ڈیسک)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ میں 0.5 فیصد اضافے پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے شرح سود فوری طور پر سنگل ڈیجٹ میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پالیسی ریٹ بڑھ کر 12 فیصد ہونے سے ملکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوگی، جبکہ صنعتی ترقی اور پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں میں مقابلے کی صلاحیت بھی مزید کمزور پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ صنعت کار پہلے ہی بلند پیداواری لاگت، یوٹیلیٹی ٹیرف میں اضافے اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں شرح سود بڑھانے سے کاروباری شعبے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔عاطف اکرام شیخ کے مطابق بلند شرح سود کے باعث کاروباری قرضوں کا حصول ناقابل برداشت ہوچکا ہے، جبکہ سخت مانیٹری پالیسی سرمایہ کاری، صنعتی پیداوار اور روزگار کے نئے مواقع کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی بڑی وجوہات توانائی کی بڑھتی قیمتیں، رسد کے نظام میں رکاوٹیں اور مالیاتی بے ضابطگیاں ہیں۔ ایسے حالات میں شرح سود بڑھانے سے پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث مہنگائی پر قابو پانا مزید مشکل ہوگا اور صنعتوں پر مالی بوجھ بڑھے گا۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود کے باعث کاروباری ادارے اپنی سرگرمیاں محدود یا بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں، جس سے سرمایہ کاری اور معاشی نمو متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے حکومت اور اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ مانیٹری پالیسی پر فوری نظرثانی کرکے شرح سود سنگل ڈیجٹ میں لائی جائے، تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سمیت صنعتی شعبے کو سستے قرضوں کی فراہمی ممکن ہوسکے۔عاطف اکرام شیخ نے مطالبہ کیا کہ کاروبار دوست معاشی پالیسیاں اپنائی جائیں، شرح سود کو علاقائی ممالک کے مقابلے میں قابلِ مقابلہ بنایا جائے اور اہم معاشی فیصلوں سے قبل کاروباری برادری سے مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔