پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ، آئی ایم ایف

پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ، آئی ایم ایف

Oct 23, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر کی رفتار سست ہونے کے باعث پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور پڑ سکتی ہے۔ ادارے نے زرمبادلہ کے ذخائر کے تحفظ کے لیے شرحِ مبادلہ میں لچک برقرار رکھنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے ضرورت پڑنے پر مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔آئی ایم ایف نے یہ خدشات مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق اپنی علاقائی رپورٹ میں ظاہر کیے، جو عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے ایک ہفتے بعد جمعرات کو جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق درمیانی مدت میں مصر، اردن اور مراکش کی بیرونی مالیاتی پوزیشن بہتر ہونے کی توقع ہے، جس کی ممکنہ وجوہات اجناس کی کم قیمتیں اور برآمدات میں تنوع ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان کو درآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر میں کمی کے باعث بیرونی مالیاتی دباؤ کا سامنا ہوسکتا ہے۔آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد، یعنی تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے تقریباً 2.5 ارب ڈالر کے سرکاری اندازے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے اور اس سے معیشت کو مختلف مالیاتی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔حکومتی قرضوں اور مالیاتی استحکام سے متعلق خدشاتآئی ایم ایف نے حکومت اور تجارتی بینکوں کے درمیان گہرے مالیاتی تعلق کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں کے مجموعی اثاثوں یا سرمایہ کاری میں سرکاری قرضوں سے متعلق ایکسپوژر کا تناسب 63 فیصد ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عمومی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ادارے نے خبردار کیا کہ حکومتی قرضوں میں اضافے سے متعلق خدشات کے باعث حکومت کو قرض حاصل کرنے کے لیے بنیادی تخمینوں سے زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑسکتی ہے۔ مصر اور پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں مالیاتی ضروریات پہلے ہی بلند ہیں، اس صورتِ حال سے مالیاتی استحکام کے مسائل مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دینے کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی بڑھ سکتی ہے جبکہ برآمدات کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچنے کے امکانات بھی واضح نہیں ہیں۔جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں ایک پیسے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد ڈالر 276.85 روپے پر بند ہوا۔شرحِ سود اور معاشی ترقی کا تخمینہآئی ایم ایف نے ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے کے لیے تیار رہیں، خصوصاً ایسی معیشتوں میں جہاں مہنگائی مقررہ ہدف سے زیادہ ہو اور پالیسی کا موجودہ انداز نسبتاً نرم ہو۔ رپورٹ کے مطابق کرغزستان اور پاکستان میں مرکزی بینک کی شرحِ سود کا اندازاً غیر جانب دار سطح سے کم ہونا زیادہ نمایاں ہے۔ادارے نے یہ بھی بتایا کہ تنازع شروع ہونے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے شرحِ مبادلہ کے نظام کے مطابق شرحِ سود سے متعلق مختلف اقدامات کیے۔ لچکدار شرحِ مبادلہ رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے تنازع شروع ہونے کے بعد شرحِ سود میں اضافہ کیا۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی پیش گوئی 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے، جو حکومت کے چار فیصد کے سرکاری ہدف سے کم ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے کی متعدد معیشتوں میں 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم رہنے کی توقع ہے، تاہم 2027 سے مالیاتی استحکام اور اخراجات میں ضبط کی پالیسیاں دوبارہ اختیار کیے جانے کا امکان ہے۔