قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس تاخیر کا شکار، رضوان، امام اور شان مسعود کی چھٹی کا امکان

قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹس تاخیر کا شکار، رضوان، امام اور شان مسعود کی چھٹی کا امکان

Oct 17, 2026|ویب ڈیسک

لاہور( سپورٹس ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس پر تاحال پیش رفت نہ ہو سکی، جس کے باعث کھلاڑیوں کا انتظار طویل ہوگیا ہے۔ انگلینڈ کے دورے میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی اور وائٹ واش کے بعد معاہدوں کا معاملہ تعطل کا شکار ہے، جبکہ ہوم سیزن میں بہتر نتائج سامنے آنے پر ہی پیش رفت متوقع ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹرز کے نئے سینٹرل کنٹریکٹس یکم جولائی 2026 سے 30 جون 2027 تک مؤثر ہوں گے۔ جولائی میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ روانگی سے قبل کھلاڑیوں کو معاہدوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی تھی اور 30 کرکٹرز کی ابتدائی فہرست بھی تیار کرلی گئی تھی، تاہم انگلینڈ میں مایوس کن کارکردگی کے بعد معاہدوں کا اعلان نہیں ہوسکا۔ذرائع کے مطابق ابتدائی فہرست میں ردوبدل کا امکان ہے اور محمد رضوان، امام الحق اور شان مسعود کو کنٹریکٹ سے باہر کیے جانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ابتدائی فہرست ایک امریکی کمپنی کے کمپیوٹر سافٹ ویئر کے الگورتھم کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جس میں انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے تمام فارمیٹس میں کھلاڑیوں کی سابقہ کارکردگی کو مدنظر رکھا گیا۔ سلیکٹرز کو کھلاڑیوں کے مستقبل، موجودہ فارم اور ماضی کی کارکردگی کی بنیاد پر 15 نمبروں کے پیمانے پر جانچنے کا اختیار دیا گیا تھا، جبکہ 50 سے 60 نمبر حاصل کرنے والے کرکٹرز کو کنٹریکٹ کا اہل قرار دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹرز کو غیر ملکی لیگز میں شرکت کے لیے این او سی نہیں ملے گا، تاہم وہ ریڈ بال کاؤنٹی یا دیگر کرکٹ کھیل سکیں گے۔ دیگر کھلاڑیوں کے لیے اجازت ناموں کی تعداد محدود ہوگی، جبکہ سی کیٹیگری میں شامل کرکٹرز پر اس حوالے سے پابندیاں نہیں ہوں گی۔کئی کھلاڑی ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کا معاہدہ حاصل کرنے کے خواہاں ہیں، تاکہ انہیں غیر ملکی لیگز میں کھیلنے کے زیادہ مواقع مل سکیں۔ ان کرکٹرز نے پی سی بی کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ قومی ٹیم میں طلب کیے جانے پر وہ کسی بھی فارمیٹ میں ملک کی نمائندگی کے لیے دستیاب ہوں گے۔سینئر کیٹیگریز اے، اے بی، بی سی اور سی میں شامل کھلاڑیوں کے لیے سالانہ کم از کم چار ٹیسٹ، چھ ون ڈے انٹرنیشنل یا چھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز کھیلنا ضروری ہے۔ ابھرتے ہوئے کھلاڑیوں کے لیے مختص ڈی کیٹیگری کو اس شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا، تاہم کھلاڑیوں کو اپنے متعلقہ فارمیٹ کے ڈومیسٹک مقابلوں میں بھی حصہ لینا ہوگا۔مجوزہ معاہدوں کے تحت اے کیٹیگری کے ٹیسٹ کرکٹرز کے پہلے درجے کو ماہانہ 40 لاکھ اور دوسرے درجے کو 36 لاکھ روپے ملیں گے۔ اے بی کیٹیگری میں پہلے درجے کی ماہانہ تنخواہ 48 لاکھ جبکہ دوسرے درجے کی 38 لاکھ روپے ہوگی۔ بی سی کیٹیگری کے دونوں درجات کے لیے بالترتیب 34 لاکھ اور 26 لاکھ روپے ماہانہ مقرر ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کو 26 لاکھ اور 20 لاکھ روپے، جبکہ ڈی کیٹیگری کے کرکٹرز کو ماہانہ 10 لاکھ روپے ملیں گے۔میچ فیس کے مجوزہ نظام کے مطابق اے کیٹیگری کے ٹیسٹ اسپیشلسٹ کو ہر ٹیسٹ کے لیے 15 لاکھ، ون ڈے کے لیے 6 لاکھ 50 ہزار اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے لیے 4 لاکھ 50 ہزار روپے ملیں گے۔ اے بی کیٹیگری میں ٹیسٹ میچ کی فیس 15 لاکھ، ون ڈے کی 7 لاکھ 50 ہزار اور ٹی ٹوئنٹی کی 5 لاکھ روپے ہوگی۔ بی سی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو ٹیسٹ میچ کے لیے 9 لاکھ روپے ملیں گے، جبکہ سی کیٹیگری کے کرکٹرز کو ہر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے لیے 5 لاکھ اور ٹیسٹ میچ کے لیے 7 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کی ماہانہ تنخواہوں اور میچ فیسوں کی ادائیگی کے لیے بجٹ میں 110 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ مجوزہ نظام میں سب سے زیادہ ماہانہ معاوضہ 48 لاکھ روپے ہے، جس کے مطابق ٹاپ کیٹیگری کا کھلاڑی سالانہ 5 کروڑ 76 لاکھ روپے حاصل کرسکتا ہے۔ میچ فیس اور دیگر ادائیگیاں شامل کرنے پر یہ رقم 8 سے 9 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق صائم ایوب نے پاکستان سپر لیگ کے ایک سیزن سے ہی 12 کروڑ 60 لاکھ روپے کمائے تھے۔ غیر ملکی لیگز میں شرکت کی صورت میں کھلاڑیوں کی سالانہ آمدن 20 سے 22 کروڑ روپے سے بھی بڑھ سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض کرکٹرز لیگز میں شرکت پر پابندیوں سے بچنے کے لیے سی کیٹیگری کا معاہدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاہم حتمی فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہی کرے گا۔