تاجروں کی فکسڈ ٹیکس اسکیم میں صرف 2 نئے فائلر شامل
اسلام آباد( کامرس ڈیسک)تاجروں کو ٹیکس نظام میں لانے کیلئے حکومت کی ایک فیصد فکسڈ ٹیکس اسکیم توقع کے مطابق پیش رفت نہ کرسکی، اب تک صرف 2 نئے دکاندار اس میں شامل ہوئے ہیں جبکہ اسکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے والے 317 تاجروں میں 315 پہلے ہی ٹیکس نظام کا حصہ تھے۔حکومت نے رواں مالی سال اس اسکیم سے سالانہ 50 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف مقرر کیا تھا، تاہم اب تک صرف 26 ملین روپے جمع ہوسکے ہیں، جو فی تاجر اوسطاً تقریباً 81 ہزار 944 روپے بنتے ہیں۔ذرائع کے مطابق ریٹرن جمع کرانے کی قانونی مدت ختم ہونے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے، جس کے باعث حکومت نے اسکیم کی پالیسی اور مستقبل پر نظرثانی شروع کردی ہے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے بھی اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔حکام کے مطابق کوئٹہ اور راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے صرف 2 نئے دکانداروں نے ریٹرن جمع کرائے ہیں، جبکہ مزید 44 نئے تاجروں نے ریٹرن تیار کیے ہیں مگر انہیں تاحال جمع نہیں کرایا۔اعداد و شمار کے مطابق 6 ہزار 631 تاجروں نے ریٹرن کا مسودہ تیار کیا، تاہم ان میں سے تقریباً 6 ہزار 587 پہلے ہی ٹیکس فائلر تھے۔ راولپنڈی سے 87، لاہور سے 61، ساہیوال سے 33، سیالکوٹ سے 25، اسلام آباد سے 23 اور کراچی سے 24 دکاندار اسکیم میں شامل ہوئے۔اس اسکیم کے تحت چھوٹے ریٹیلرز کی سالانہ فروخت پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ اہل دکانداروں کو ٹیکس آڈٹ، پوائنٹ آف سیل نظام کی تنصیب اور ودہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ بننے سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔اسکیم سے وہ دکاندار فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کا ایک ہی کاروباری مرکز ہو اور گزشتہ مسلسل 3 برس میں سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم رہی ہو۔ حکومت نے آگاہی مہم تیز کرنے اور ٹیکس بارز کے تعاون سے تاجروں کو ریٹرن جمع کرانے میں سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔تاجروں کیلئے ریٹرن جمع کرانے کی قانونی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر ہے۔