آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن پر کارٹل ثابت، 6 کروڑ روپے جرمانہ
اسلام آباد( کامرس ڈیسک) مسابقتی کمیشن پاکستان کی مارکیٹ انٹیلیجنس کے مطابق آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر کارٹل بنانے کا الزام ثابت ہوگیا، جس پر خوردنی تیل اور گھی کی ترسیل کے کرایے باہمی طور پر طے کرنے اور کاروبار تقسیم کرنے کے معاملے میں 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا گیا۔سی سی پی کے مطابق اجتماعی طور پر ٹرانسپورٹ کرایے مقرر کرنے پر 3 کروڑ جبکہ پرچی اور باری کے نظام کے ذریعے کاروبار تقسیم کرنے پر مزید 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ ڈیزل کی قیمت ایک روپے بڑھنے پر کرایہ 0.75 فیصد بڑھانے اور قیمت ایک روپے کم ہونے پر صرف 0.5 فیصد کمی کا فارمولا طے تھا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ برس میں کرایوں میں 89 مرتبہ اجتماعی ردوبدل ہوا، جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی کی گئی۔ کراچی میں رعایتی کرایہ دینے والے ٹینکر مالکان کو بلیک لسٹ کرنے جبکہ رعایتی کرایہ طلب کرنے والی ملوں کو سپلائی روکنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن کے تقریباً 2 ہزار 362 ٹینکرز اور ایک ہزار 700 مالکان رجسٹرڈ ہیں، جبکہ بندرگاہوں پر روزانہ 250 سے 300 ٹینکرز آتے ہیں۔ این ایل سی کے 50 سے 60 ٹینکرز کے مقابلے میں ایسوسی ایشن کا حصہ تقریباً 83 فیصد بنتا ہے۔تحقیقات کے دوران چھ سال کے کرایہ سرکلرز، معاہدے اور کمپیوٹر ریکارڈ قبضے میں لیے گئے۔ سی سی پی کے مطابق آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن اور پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے درمیان کرایوں کے تعین کا معاہدہ 2011ء میں ہوا تھا جسے 2022ء میں اپ ڈیٹ کیا گیا۔کمیشن نے اجتماعی طور پر کرایے مقرر کرنے اور پرچی و باری کا نظام فوری ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ سی سی پی کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے گھی اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیاء مزید مہنگی ہوسکتی ہیں۔ فیصلے میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کو بھی مسابقتی ایکٹ کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی پر 5 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا تھا۔