محمد یوسف کا نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ، جدید سہولتوں کو سراہا
لاہور( سپورٹس ڈیسک) پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان محمد یوسف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی دعوت پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جاری ترقیاتی منصوبوں اور کھلاڑیوں کے لیے فراہم کردہ جدید سہولتوں کا جائزہ لیا۔محمد یوسف نے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کھلاڑیوں کو بہترین سہولتیں فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔سابق کپتان نے عاقب جاوید اور ان کی ٹیم کی جانب سے نچلی سطح پر کرکٹ کے فروغ کے منصوبوں کی بھی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انڈر 15، انڈر 17، انڈر 19 اور شاہینز پروگرامز مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت کھلاڑی تیار کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔انہوں نے سیالکوٹ اکیڈمی میں 30 انڈر 15 کھلاڑیوں کو 240 روز تک تربیت دینے کے منصوبے کو قابلِ تحسین قرار دیا اور کہا کہ نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ ذہنی تربیت بھی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کے لیے اہم ہے۔محمد یوسف نے ایل سی سی اے گراؤنڈ میں جدید ڈریسنگ رومز اور دیگر سہولتوں کی تعمیر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ بائیو مکینکس لیب کو جدید بنانے سے کھلاڑیوں کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔سابق ٹیسٹ کپتان نے پاکستان انڈر 19 ٹیم کے دورۂ انگلینڈ کو بھی پی سی بی کا مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ نوجوان ٹیموں کو انگلینڈ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں زیادہ سے زیادہ کھیلنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق سری لنکا کی انڈر 17 ٹیم کو پاکستان مدعو کرنا بھی نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی تجربہ دینے کے لیے اہم ہے۔انہوں نے نوجوان بیٹرز کی تکنیک بہتر بنانے کے لیے غیر ملکی بیٹنگ کوچ کی خدمات حاصل کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شاٹ سلیکشن، تکنیکی مہارت اور دباؤ میں کھیلنے کی صلاحیت پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے تاکہ بیٹرز بین الاقوامی کرکٹ کے تقاضوں پر پورا اتر سکیں۔محمد یوسف نے فرسٹ کلاس کرکٹ کے لیے مختلف خصوصیات کی حامل پچز تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایل سی سی اے گراؤنڈ میں باؤنس، سوئنگ اور اسپن کے لیے الگ الگ نوعیت کی پچز بنانے سے کھلاڑیوں کو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکے گا۔ان کے مطابق جدید بولنگ مشینوں اور ویڈیو تجزیے کی مدد سے کھلاڑیوں کی تکنیکی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ پی سی بی کی فراہم کردہ سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھائیں تاکہ انفرادی کارکردگی بہتر ہونے کے ساتھ پاکستان کرکٹ کا مستقبل بھی مضبوط ہو۔