ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے قومی ٹیکس ادارے کے قیام پر غور شروع

ایف بی آر کی تنظیم نو یا نئے قومی ٹیکس ادارے کے قیام پر غور شروع

Oct 16, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) حکومت نے قومی محصولات میں اضافے اور ٹیکس وصولیوں کا نظام بہتر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی ازسرنو تشکیل یا ایک نیا ٹیکس وصولی ادارہ قائم کرنے کی تجاویز پر غور شروع کر دیا ہے۔ متعدد اصلاحاتی اقدامات کے باوجود ایف بی آر کی کارکردگی پر تحفظات کے باعث متبادل انتظامی ڈھانچے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔سرکاری حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پہلی مرتبہ مکمل طور پر نیا ٹیکس ادارہ قائم کرنے کی تجویز سامنے آئی۔ اس کے بعد ایف بی آر کے اندر بھی مشاورت کا عمل شروع ہو گیا۔ چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بعض افسران کو وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کرنے کے لیے اصلاحاتی منصوبہ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جمعرات کو جاری ہدایات میں ایف بی آر کو 19 اکتوبر کو انسانی وسائل میں اصلاحات، ادارے کی بہتری اور تنظیم نو سے متعلق جامع تجاویز پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔نئے ادارے کے قیام سے متعلق سوال پر ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے، جس کے دوران مختلف تجاویز اور خیالات زیر بحث آتے رہتے ہیں۔ ادارے نے تصدیق کی کہ وزیراعظم کی ہدایت پر انسانی وسائل اور تنظیم نو سے متعلق سفارشات تیار کی جا رہی ہیں۔ ترجمان نے ٹیکس وصولیوں کا کام کسی نجی کمپنی کو سونپنے کی اطلاعات کو بھی بے بنیاد قرار دیا۔ذرائع کے مطابق مشاورت ابتدائی مرحلے میں ہے اور ایف بی آر کے مستقبل کے ڈھانچے یا نئے محاصل وصولی ادارے کے قیام کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ زیر غور تجاویز میں قومی ٹیکس ایجنسی کا قیام بھی شامل ہے۔ اگر ایف بی آر کے اختیارات کسی نئے ادارے کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ایف بی آر ایکٹ 2007 سمیت کم از کم چار ٹیکس قوانین میں ترامیم درکار ہوں گی۔ایک سرکاری عہدیدار کے مطابق موجودہ سوچ یہ ہے کہ ایف بی آر کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔ جو افسران نئے ادارے میں منتقل ہونے کا انتخاب نہیں کریں گے، وہ موجودہ ادارے میں ریٹائرمنٹ تک خدمات انجام دے سکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے میں ناکامی، مطلوبہ ٹیکس وصولیاں حاصل نہ ہونا اور مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ٹیکسوں کی شرح میں جمود نئے ادارے کے قیام پر غور کی اہم وجوہات ہیں۔ایف بی آر کے ترجمان نے ادارے کے تبدیلی کے منصوبے کے نتائج بیان کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران ٹیکس وصولیاں 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھ کر 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ تاہم اس اضافے میں اصلاحاتی اقدامات کے ساتھ اضافی ٹیکسوں اور معیشت کی محدود شرح نمو کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت بھاری ٹیکس عائد کیے تھے، جن سے پہلے سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھانے میں بھی مدد ملی۔ دوسری جانب کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے نومبر 2024 میں چھ ماہ کے لیے 32 ارب 50 کروڑ روپے کے پہلے اخراجاتی پیکیج کی منظوری دی تھی۔ اس میں سے 5 ارب 60 کروڑ روپے ایک ہزار 87 نئی گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ایف بی آر کو ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے بھی مشکلات درپیش ہیں۔ قومی ٹیکس نمبر رکھنے والے ایک کروڑ 90 لاکھ افراد میں سے جمعرات کی شام تک صرف 69 لاکھ افراد نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے تھے، جبکہ گزشتہ ٹیکس سال میں 85 لاکھ گوشوارے موصول ہوئے تھے۔حکومت نے خوردہ فروشوں کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کے لیے ایک اسکیم بھی متعارف کرائی تھی، جس کا ہدف 37 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانا تھا۔ ان میں سے 10 لاکھ تاجروں کو رواں سال ٹیکس نظام میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ٹیکس وصولیوں میں بہتری کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ اور پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے، تاکہ کاروباری لین دین کی حقیقی وقت میں نگرانی ممکن ہو۔ اس کے علاوہ آڈٹ اور کلیئرنس کے لیے معاملات کے انتخاب میں مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینجمنٹ نظام بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔