لارڈز ٹیسٹ کی پچ پر سوالات، آئی سی سی اسکرونٹی کا خدشہ

8 گھنٹے قبل
لارڈز ٹیسٹ کی پچ پر سوالات، آئی سی سی اسکرونٹی کا خدشہ

لارڈز( سپورٹس ڈیسک)ہوم آف کرکٹ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی پچ پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور اس کے آئی سی سی اسکرونٹی میں آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان جاری ٹیسٹ میچ میں پہلے دو روز کے دوران مجموعی طور پر 33 وکٹیں گر چکی ہیں، جس نے پچ کے رویے پر بحث کو جنم دیا ہے۔میچ کے دوران جیکب بیتھل میٹ ہنری کی ایک انتہائی نیچے رہنے والی گیند پر آؤٹ ہوئے، جس پر کمنٹیٹرز نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔کمنٹیٹر میل جونز نے کہا کہ ایسی گیند پر بلے باز کچھ نہیں کر سکتا اور چوتھی اننگز میں یہ پچ نیوزی لینڈ کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گی۔ اسٹیورٹ براڈ نے بھی کہا کہ یہ گیند انتہائی غیر معمولی تھی اور بلے باز کے لیے کھیلنا ممکن نہیں تھا۔سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ پچ کے باؤنس میں تسلسل کی کمی ہے، جس کی وجہ سے ایل بی ڈبلیو کے فیصلوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہ اچھی پچ نہیں ہے۔سابق کپتان ناصر حسین نے بھی رائے دی کہ لارڈز کے مرکزی حصے میں تسلسل کی کمی ہے، باؤنس غیر ہموار ہے اور بیٹرز کے لیے ایسی صورتحال انتہائی مشکل ہوتی ہے۔واضح رہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے پہلے روز 16 جبکہ دوسرے روز 17 وکٹیں گریں۔انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 140 اور دوسری اننگز میں 226 رنز بنائے، جبکہ نیوزی لینڈ نے پہلی اننگز میں 113 رنز اسکور کیے۔ دوسری اننگز میں نیوزی لینڈ کو جیت کے لیے 218 رنز درکار ہیں اور اس وقت اس کی 3 وکٹیں 36 رنز پر گر چکی ہیں۔