ڈبلیو ٹی اے نے خواتین ٹینس مقابلوں کے لیے نئی اہلیت پالیسی نافذ کر دی

ڈبلیو ٹی اے نے خواتین ٹینس مقابلوں کے لیے نئی اہلیت پالیسی نافذ کر دی

Jul 23, 2026|ویب ڈیسک

فلوریڈا( سپورٹس ڈیسک) ویمنز ٹینس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے خواتین کے پیشہ ورانہ ٹینس مقابلوں میں شرکت کے لیے نئی اہلیت پالیسی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت تمام کھلاڑیوں کے لیے ایک مرتبہ جینیاتی جنس کا ٹیسٹ لازمی ہوگا۔برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پالیسی کے تحت کھلاڑیوں سے گال کے اندرونی حصے، خون یا لعاب کا نمونہ لیا جائے گا تاکہ ایس آر وائی جین کی موجودگی کی جانچ کی جا سکے، جو وائی کروموسوم سے منسلک ہوتا ہے اور مردانہ جسمانی خصوصیات کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ڈبلیو ٹی اے کے مطابق صرف وہی کھلاڑیاں خواتین کے پیشہ ورانہ مقابلوں میں شرکت کی اہل ہوں گی جن کے ٹیسٹ میں مذکورہ جین موجود نہ ہو۔ اگر کسی کھلاڑی کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تو اس کا مزید طبی معائنہ کیا جائے گا۔نئی پالیسی کے تحت تمام کھلاڑیوں کو ایک رضامندی نامے پر دستخط بھی کرنا ہوں گے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیسٹ کروانے سے انکار کی صورت میں انضباطی کارروائی کی جا سکتی ہے۔اس سے قبل 2024 کی پالیسی کے مطابق ٹرانس جینڈر خواتین مخصوص حد سے کم ٹیسٹوسٹیرون برقرار رکھنے کی شرط پر مقابلوں میں حصہ لینے کی اہل تھیں۔ڈبلیو ٹی اے کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا مقصد خواتین کے مقابلوں میں مساوی مواقع، شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانا ہے، جبکہ تمام کھلاڑیوں کے ساتھ احترام اور وقار کے ساتھ برتاؤ کیا جائے گا۔