ایران پر نئی پابندیوں کا امکان، عالمی منڈی میں تیل سستا
لندن( کامرس ڈیسک) امریکا کی جانب سے ایران پر مزید سخت پابندیوں کے ممکنہ اعلان سے قبل عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کمی ہوگئی، جبکہ سرمایہ کاروں نے گزشتہ ہفتے قیمتوں میں اضافے کے بعد منافع سمیٹنے کو ترجیح دی۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر بھی پابندیاں لگانے کی دھمکی دی ہے۔عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 22 سینٹ کم ہوکر 93.17 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت ایک ڈالر 20 سینٹ کمی کے بعد 85.86 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ دونوں اقسام کی قیمتوں میں بالترتیب 1.29 اور 1.38 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے ہفتے اضافہ ہوا تھا اور دونوں اقسام میں پانچ فیصد سے زائد بڑھوتری ہوئی تھی۔امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے خدشات کے باعث عالمی منڈی میں رسد کے حوالے سے تشویش برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کے ماہرِ اجناس ویوک دھار کے مطابق ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی پالیسی کی کامیابی واضح نہیں، تاہم مؤثر اقدامات کی صورت میں ایران کا سخت ردعمل عالمی توانائی منڈی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ایران نے امریکی پابندیوں کے منصوبے کی مذمت کی ہے، جبکہ صدر مسعود پزشکیان نے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے عراق کی درخواست پر متعدد عراقی تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، جس سے تیل کی ترسیل کی صورتحال میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔