عالمی عدالت نے طالبان امیر سمیت 4 رہنماؤں کے وارنٹ جاری کردیئے

عالمی عدالت نے طالبان امیر سمیت 4 رہنماؤں کے وارنٹ جاری کردیئے

Oct 6, 2026|ویب ڈیسک

دی ہیگ( مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی فوجداری عدالت نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں سمیت دیگر افراد کے خلاف مبینہ مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور صنفی بنیاد پر استحصال کے الزامات پر طالبان کی اعلیٰ قیادت کے 4 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔عدالت کے مطابق وارنٹ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، حبیب اللہ آغا اور ندا محمد ندیم کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔ یہ وارنٹ ابتدائی طور پر ضوابط اور گواہوں کے تحفظ کے باعث خفیہ رکھے گئے تھے۔عالمی فوجداری عدالت کے ججز کے مطابق ایسے معقول اور مضبوط شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاروں شخصیات روم اسٹیچوٹ کے آرٹیکل 7 کے تحت صنفی اور سیاسی بنیادوں پر انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے احکامات دینے اور ان پر عمل درآمد کی براہِ راست مجرمانہ ذمہ داری رکھتی ہیں۔عدالت نے کہا کہ ان جرائم میں قتل، قید، تشدد، جبری گمشدگی اور بنیادی آزادیوں سے محرومی شامل ہے۔ طالبان کے 15 اگست 2021ء کو اقتدار سنبھالنے کے بعد نافذ کی جانے والی پالیسیوں نے بالخصوص خواتین کی زندگی اور آزادی کو شدید متاثر کیا۔عدالت کے مطابق افغان خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور مذہبی و فکری آزادی سمیت بنیادی حقوق سے محروم کیا گیا، جبکہ خواتین کے حامی سمجھے جانے والے افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا۔آئی سی سی کے سابق پراسیکیوٹر کریم خان نے گزشتہ برس وارنٹ کی درخواست دیتے ہوئے کہا تھا کہ افغان خواتین، لڑکیوں اور غیر روایتی صنفی شناخت رکھنے والے افراد کو طالبان کی جانب سے سنگین مظالم کا سامنا ہے، جو عالمی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔دوسری جانب افغان حکومت نے عالمی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان عالمی فوجداری عدالت یا اس کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان صرف اسلامی شریعت اور اپنی عدالتوں کے فیصلوں کا پابند ہے اور کسی غیر ملکی یا عالمی ادارے کے احکامات کو تسلیم نہیں کرتا۔