بلوچستان انتخابات میں من پسند افراد کو کامیاب کرایا گیا، عبدالخالق ہزارہ

بلوچستان انتخابات میں من پسند افراد کو کامیاب کرایا گیا، عبدالخالق ہزارہ

Nov 4, 2026|ویب ڈیسک

کوئٹہ ( اباسین خبر) ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ نے الزام عائد کیا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں بلوچستان میں مبینہ طور پر بندربانٹ کی گئی اور باہر سے لائے گئے افراد کو کامیاب کرایا گیا، جبکہ کوئٹہ کی نمائندگی ایسے لوگوں کے حوالے کی گئی جن کا متعلقہ علاقوں سے کوئی تعلق نہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ علمدار روڈ، مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن سے منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے حقیقی مسائل اور عوام سے واقفیت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق جب تک عوام کے اصل نمائندے منتخب نہیں ہوں گے، صوبے میں پائی جانے والی مایوسی ختم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان کا تقریباً نصف حصہ نوگو ایریاز میں تبدیل ہوچکا ہے اور سیاست سے سماجی اقدار بھی متاثر ہوئی ہیں۔عبدالخالق ہزارہ نے کہا کہ ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ بھی ناانصافی کی گئی۔ اپنی سابقہ سیاسی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے دور میں 900 سے زائد افراد کو میرٹ پر ملازمتیں دی گئیں اور بھرتیوں میں رنگ، نسل یا قومیت کو معیار نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ ان کے دور میں ملازمتیں فروخت ہونے کا ثبوت مل جائے تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست دان عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں مبینہ طور پر بدعنوان عناصر کھلے عام کرپشن کا اعتراف کرتے ہیں۔ انہوں نے بعض ارکان اسمبلی اور افسران پر 20 فیصد کمیشن لینے کے الزامات بھی عائد کیے اور کہا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔انہوں نے موجودہ نظام کو مفلوج قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاست کو قوم پرست جماعتوں کے بجائے بڑی قومی سیاسی جماعتوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ دونوں جماعتوں نے اپنے سرپرستوں کے اشاروں پر انتخابات میں بندربانٹ کی۔ ان کے بقول ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ لگانے والوں نے ہی ووٹ کی حرمت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔عبدالخالق ہزارہ نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواب اسلم رئیسانی کی حکومتوں کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میثاقِ جمہوریت اور قومی ایکشن پلان پر عمل کرتیں تو ملک کو موجودہ سنگین صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔