کراچی میں جعلی کمپنیوں سے 3 ارب 26 کروڑ کے فراڈ کا انکشاف

کراچی میں جعلی کمپنیوں سے 3 ارب 26 کروڑ کے فراڈ کا انکشاف

Oct 5, 2026|ویب ڈیسک

کراچی( کامرس ڈیسک)پاکستان کسٹمز ایئر فریٹ یونٹ کراچی کی تحقیقات میں دو مبینہ جعلی کمپنیوں کے ذریعے 3 ارب 26 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے 71 ہزار 815 انٹرنیٹ راوٹرز کی غیرقانونی درآمد کا انکشاف ہوا ہے۔کلکٹر کسٹمز کراچی ایئرپورٹ سعدیہ شیراز کی جانب سے ایف بی آر کے سیکریٹری انفورسمنٹ کو بھیجی گئی 39 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے مطابق مذکورہ درآمدات پی ٹی اے کے لازمی ٹائپ اپروول اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کی گئیں، جبکہ اس معاملے میں ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میسرز مسلم سنز انٹرپرائزز اور میسرز موسانی سنڈیکیٹ نامی دونوں کمپنیاں مبینہ طور پر کاغذی ادارے تھیں اور فرنٹ مین کے نام پر رجسٹرڈ تھیں۔ تحقیقات کے دوران دونوں کمپنیوں کے درج پتوں پر کوئی دفتر موجود نہیں ملا۔ ایک پتے پر چاول اور آٹے کی دکان جبکہ دوسرے پر کرائے کا رہائشی مکان پایا گیا۔تحقیقات کے مطابق دونوں کمپنیوں کے وی بوک نظام میں 5715 مختلف آئی پی ایڈریس استعمال ہوئے، جن میں 1048 آئی پی ایڈریس مشترک تھے، جس سے دونوں اداروں کے ایک ہی گروہ کے زیر انتظام ہونے کا شبہ مضبوط ہوا۔مالیاتی ریکارڈ کے جائزے سے معلوم ہوا کہ دونوں کمپنیوں نے مجموعی طور پر 3 ارب 26 کروڑ 90 لاکھ روپے مالیت کے راوٹرز درآمد کیے اور بیرون ملک 2 ارب 10 کروڑ روپے منتقل کیے، جبکہ ان کے مالکان کا مجموعی ابتدائی سرمایہ صرف 22 لاکھ روپے تھا۔رپورٹ کے مطابق 2 ارب 90 کروڑ روپے کی مقامی فروخت پر انتہائی معمولی سیلز ٹیکس ادا کیا گیا، جبکہ راوٹرز کی فروخت بلیک لسٹ، معطل اور غیر فعال خریداروں سمیت ایسے اداروں کو ظاہر کی گئی جن کا متعلقہ کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ پی ٹی اے کی منظوری کے بغیر 71 ہزار 815 راوٹرز پر مشتمل 10 غیرقانونی کھیپیں درآمد کی گئیں۔ ایک معاملے میں 9 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت ظاہر کی گئی اشیا کی کسٹمز نے اصل قیمت 56 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی، جبکہ مجموعی طور پر ایک ارب 30 کروڑ روپے کی انڈر انوائسنگ بھی سامنے آئی۔کسٹمز حکام کی جانب سے غیرقانونی کلیئرنس، نیلامی یا دستی حوالگی سے انکار پر مبینہ طور پر پس پردہ عناصر نے افسران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ رپورٹ کے مطابق انہیں مالی لالچ، اثر و رسوخ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ سوشل میڈیا کے ذریعے افسران کے خلاف مہم چلانے کی بھی کوشش کی گئی۔کسٹمز کلکٹریٹ نے معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے نیب، ایف آئی اے، ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز انٹیلی جنس پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کمپنیوں کی وی بوک صارف شناختیں اور این ٹی این معطل کرنے جبکہ کیس کو سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کارروائی کے لیے متعلقہ ریجنل ٹیکس دفتر کراچی بھیجنے کی سفارش کی گئی ہے۔