بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہاپسندی چھوڑنے اور مذاکرات کرنے کا مشورہ

بلاول بھٹو کا پی ٹی آئی کو انتہاپسندی چھوڑنے اور مذاکرات کرنے کا مشورہ

Oct 10, 2026|ویب ڈیسک

کراچی( اباسین خبر) چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرکے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بحال کرنے اور پارلیمان میں واپس آنے کا مشورہ دیا ہے۔کراچی میں کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس کا افتتاح کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے نوجوانوں کو مبارک باد دی اور کہا کہ پیپلزپارٹی نوجوانوں کے ہاتھوں میں قلم دیکھنا چاہتی ہے، ہتھیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی قوتیں کراچی کے نوجوانوں کو مجرمانہ سرگرمیوں کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں، جبکہ کچھ جماعتیں نفرت اور تقسیم کی سیاست کررہی ہیں۔بلاول بھٹو نے بتایا کہ انہوں نے کراچی اسپورٹس کمپلیکس کے ساتھ تھرپارکر میں تھر کول بلاک ٹو کے تیسرے حصے کا بھی افتتاح کیا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو تعلیم، کھیل اور ترقی کی جانب راغب کرنے کے لیے مثبت سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ اس جماعت کے وفاقی حکومت، صوبائی حکومتوں اور دیگر سیاسی جماعتوں سمیت مختلف فریقوں کے ساتھ تنازعات ہیں، جن کا نقصان ملک کو ہورہا ہے۔ اگر پی ٹی آئی اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام واپس حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے انتہاپسندی چھوڑ کر دوسری جماعتوں سے بات چیت اور پارلیمانی سیاست میں واپسی اختیار کرنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی انتہاپسندی کے باعث پی ٹی آئی کے کارکن مایوسی کا شکار ہیں اور وفاقی سیاست میں جماعت کا کردار بھی متاثر ہوا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر یہ طرزِ سیاست جاری رہا تو بانی پی ٹی آئی جیل میں صدر آصف علی زرداری کے 14 سالہ دورِ اسیری کا ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو بھی مشورہ دیا کہ اگر وہ بانی پی ٹی آئی سے مخلص ہیں تو انتہاپسندی کی سیاست ترک کرکے صوبے میں اپنی حکومت بچانے کے لیے مثبت سیاسی رویہ اپنائیں۔خیبرپختونخوا کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ گورنر راج ایک آئینی اور قانونی آپشن ہے، لیکن اسے آخری چارے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پیپلزپارٹی نہیں چاہتی کہ ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنا پڑے، تاہم وزیراعلیٰ کے رویے کے باعث حالات اس سمت جاسکتے ہیں اور بعض سیاسی قوتیں ایسے اقدامات پر غور کرنے پر مجبور ہورہی ہیں۔بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ چند روز قبل وفاقی حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کے لیے تیار تھی اور اپوزیشن جماعتوں کا حکومت کے ساتھ معاہدہ بھی ہوچکا تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے اقدامات آخری آپشن ہونے چاہئیں۔انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے سوال کیا کہ مذاکرات کو ناکام کیوں بنایا گیا؟ بلاول بھٹو نے مذاکرات میں مولانا فضل الرحمان کے کردار کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور جمہوری عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔کراچی کی سیاسی تاریخ اور امن و امان پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ شہر کا مینڈیٹ 1988 میں عوام سے چھین کر دوسروں کے حوالے کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کراچی تشدد اور خونریزی کے دور سے گزرا، تاہم پیپلزپارٹی نے مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے بعد شہر کو خراب حالات سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن قائم ہونے کے بعد خوشحالی کا سفر شروع ہوا۔ بلاول بھٹو نے ان سیاسی دعوؤں پر بھی تنقید کی جن میں شہر کا اختیار ملنے پر دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کی بات کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں کراچی کو بھائی کے مقابلے میں بھائی کھڑا کرنے کی سیاست کا سامنا رہا۔چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ لاڑکانہ سے کراچی تک سندھ میں بلدیاتی نظام قائم ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ وہ بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینے کی مخالفت کیوں کریں گے۔نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر بلاول بھٹو نے کہا کہ جہاں عوام صوبہ نہیں چاہتے، وہاں انہیں زبردستی قائل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ جن علاقوں کے عوام صوبہ چاہتے ہیں، ان کے مطالبے پر عمل درآمد میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب اور گلگت کو صوبہ بنانے کی تجویز پر پیپلزپارٹی تعاون کرے گی اور اس معاملے میں عوامی خواہشات اور جمہوری اصولوں کو اہمیت دینی چاہیے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دھاندلی کے حوالے سے سب سے زیادہ شور پی ٹی آئی کرتی ہے، تاہم امکان ہے کہ جماعت انتخابی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہ ہو۔ انہوں نے تحریک انصاف پر زور دیا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بحال کرے اور پارلیمانی عمل میں حصہ لے تاکہ انتخابی نظام سمیت قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جاسکے۔خطے کی کشیدہ صورتِ حال اور عالمی توانائی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا کو پٹرول اور ڈیزل کی صورت میں بڑے بحران کا سامنا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں زراعت اور خوراک کے شعبے بھی اس سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث متعدد بحری راستے بند ہیں، جس سے توانائی کی ترسیل اور عالمی تجارت متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں توانائی اور خوراک کی فراہمی سے متعلق ممکنہ مسائل سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات ضروری ہیں۔