معروف شاعر احمد راہی کو بچھڑے 24 برس بیت گئے
لاہور( شوبز ڈیسک) معروف شاعر احمد راہی کو مداحوں اور اہلِ ادب سے جدا ہوئے 24 برس گزر گئے، تاہم ان کی شاعری اور فلمی گیت آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔احمد راہی نے اردو اور پنجابی فلموں کے لیے 300 سے زائد گیت تحریر کیے، جو آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔ معروف لوک داستانوں پر بننے والی پنجابی فلمیں ہیر رانجھا، مرزا جٹ اور سسی پنوں ان کے مقبول گیتوں کے باعث بھی غیر معمولی کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ وہ 12 نومبر 1923 کو امرتسر کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ امرتسر میں قیام کے دوران انہوں نے اپنے کالج کے دوست سیف الدین سیف سے شعری اصلاح حاصل کی، جبکہ ان کا کلام ماہنامہ افکار سمیت مختلف ادبی رسائل میں شائع ہونے لگا۔قیام پاکستان کے بعد احمد راہی لاہور آگئے۔ معروف شاعر ساحر لدھیانوی سے ان کی گہری دوستی تھی۔ ساحر لدھیانوی نے انہیں ادبی جریدے سویرا کی ادارت سونپی اور خود بھارت چلے گئے۔ 1953 میں احمد راہی کا پہلا شعری مجموعہ ترنجن شائع ہوا، جسے بے حد پذیرائی ملی اور بعد ازاں اسے پنجابی نصاب کا حصہ بھی بنا دیا گیا۔احمد راہی نے 1948 میں سعادت حسن منٹو کے مشورے پر پنجابی فلم بیلی کے لیے گیت لکھ کر فلمی نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ انہوں نے ماہی منڈا، چھومنتر، یکے والی، مہندی والے ہتھ، مرزا جٹ، سسی پنوں اور ہیر رانجھا سمیت 100 سے زائد فلموں کے لیے گیت تحریر کیے۔احمد راہی کو اردو فلم بازار کے لیے لکھے گئے گیت لگا ہے حسن کا بازار دیکھو پر نگار ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ان کے دیگر مقبول گیتوں میں چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے، اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا اور لوٹ آؤ میرے پردیسی بہار آئی ہے شامل ہیں، جو آج بھی شائقین کے دلوں کو چھوتے ہیں۔بالآخر 2 ستمبر 2002 کو پنجابی و اردو شاعری اور صحافت کا یہ روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا، تاہم ان کا ادبی اور فلمی سرمایہ آج بھی انہیں زندہ رکھے ہوئے ہے۔