عالمی بینک کی این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات اور زرعی ٹیکس کے مؤثر نفاذ کی سفارش

عالمی بینک کی این ایف سی ایوارڈ میں اصلاحات اور زرعی ٹیکس کے مؤثر نفاذ کی سفارش

Jul 2, 2026|ویب ڈیسک

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) عالمی بینک نے پاکستان کے مالیاتی نظام سے متعلق اپنی رپورٹ میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں اصلاحات، زرعی آمدن پر مؤثر ٹیکس وصولی اور پراپرٹی ٹیکس کے یکساں نظام پر عمل درآمد کی سفارش کی ہے۔رپورٹ کے مطابق قرضوں کی ادائیگی، سماجی تحفظ، انفراسٹرکچر، سیکیورٹی اور ماحولیاتی تحفظ جیسے قومی اہمیت کے شعبوں کے مالی اخراجات وفاق اور صوبوں کو مشترکہ طور پر برداشت کرنے چاہییں۔عالمی بینک نے تجویز دی ہے کہ این ایف سی ایوارڈ اور اضافی مالی مراعات کو کارکردگی، شفافیت، مالی نظم و ضبط اور عوامی خدمات کی بہتر فراہمی سے مشروط کیا جائے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبوں کی ذمہ داریوں اور مالی وسائل میں اضافہ ہوا، تاہم قومی مالیاتی نظام کی بنیادی کمزوریاں اب بھی برقرار ہیں۔عالمی بینک کے مطابق 2010 سے 2024 کے دوران صوبائی محصولات جی ڈی پی کے 4 فیصد سے بڑھ کر 6.5 فیصد تک پہنچ گئیں، لیکن وفاقی اخراجات میں نمایاں کمی نہیں آئی، جبکہ مقامی حکومتوں کے اخراجات کم ہو کر صرف 5 فیصد رہ گئے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبوں کے پاس موجود اضافی مالی وسائل کا تقریباً 80 فیصد حصہ تنخواہوں اور پنشن جیسے جاری اخراجات پر خرچ ہو جاتا ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور دیگر عوامی خدمات کی فراہمی میں چیلنجز بدستور موجود ہیں۔عالمی بینک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں 20 فیصد سے زائد حصہ رکھتا ہے، لیکن اس کا بڑا حصہ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، اس لیے زرعی آمدن پر ٹیکس کے مؤثر نفاذ اور پراپرٹی ٹیکس کے یکساں نظام کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 9.9 فیصد ہے، جو خطے کے کئی ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ عالمی بینک نے مؤثر ٹیکس اصلاحات کے ذریعے مالیاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔