پشاور ہائیکورٹ کا 123 افغان باشندوں کو عبوری ریلیف، 60 روز تک گرفتاری اور بے دخلی سے روک دیا

پشاور ہائیکورٹ کا 123 افغان باشندوں کو عبوری ریلیف، 60 روز تک گرفتاری اور بے دخلی سے روک دیا

Jul 2, 2026|ویب ڈیسک

 پشاور( اباسین خبر)پشاور ہائیکورٹ نے افغانستان کے سابق دفاعی و سیکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، وکلاء، اساتذہ اور دیگر افغان شہریوں کی 123 رٹ درخواستوں پر عبوری ریلیف دیتے ہوئے انہیں 60 روز تک گرفتار یا ڈی پورٹ نہ کرنے کا حکم جاری کر دیا۔جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سیف اللہ محب کاکاخیل، ملک شہباز، پروفیسر نذیر احمد، قیصر علی شاہ، رئیس محمد، عنایت اللہ، فہیم مروت، سہیل خان، عارف فردوس اور دیگر وکلاء پیش ہوئے، جبکہ وفاق کی نمائندگی ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے کی۔درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ افغانستان میں سابقہ پیشے، سیاسی وابستگی یا صنفی بنیادوں پر انہیں جان کے خطرات لاحق ہیں، جس کے باعث وہ پاکستان آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیشتر افراد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے ساتھ بطور پناہ گزین رجسٹرڈ ہیں، جبکہ متعدد درخواست گزار تیسرے ممالک میں آبادکاری کے لیے انٹرویوز اور سیکیورٹی کلیئرنس سمیت مختلف مراحل مکمل کر چکے ہیں۔درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ایسے شخص کو اس ملک واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے مؤقف اپنایا کہ درخواستیں ناقابلِ سماعت ہیں، کیونکہ کوئی بھی غیر ملکی غیر قانونی طور پر پاکستان میں قیام کا حق نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فارن ایکٹ 1946 کے تحت غیر ملکیوں کی رہائش اور ویزا سے متعلق معاملات وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، جبکہ درخواست گزاروں کے ویزے بھی زائد المعیاد ہو چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یو این ایچ سی آر حکومت کو ویزا پالیسی سے متعلق کوئی ہدایات جاری نہیں کر سکتا اور نہ ہی حکومت اس کے دستاویزات کی پابند ہے، لہٰذا درخواستیں خارج کی جائیں۔دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے درخواست گزاروں کو 60 روز کے لیے گرفتاری اور بے دخلی سے تحفظ فراہم کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ اس مدت کے دوران ان کی قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے۔